.

متحدہ عرب امارات نے داعش کے خلاف حملے روک دیئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے اردن کے یرغمالی پائلٹ معاذ الکساسبہ کو دولت اسلامی"داعش" کی جانب سے زندہ جلائے جانے کے واقعے کے بعد شام میں دہشت گردوں کے خلاف فضائی آپریشن روک دیا ہے۔

اخبار "نیویارک ٹائمز" کے مطابق امریکی فوج کے ایک ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں ‌اطلاع ملی ہے کہ متحدہ عرب امارات نے داعش کے خلاف فضائی حملے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم اس خبر کی تصدیق کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ' یو اے ای' کی جانب سے داعش کےخلاف فضائی آپریشن معطل کرنے کافیصلہ اردنی ہواباز معاذ الکساسبہ کو داعش کے ہاتھوں مبینہ طور پر زندہ جلائے جانے کے واقعے کے بعد کیا گیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اماراتی حکومت کو خدشہ ہے کہ فضائی حملے جاری رکھنے کی صورت میں‌اس کے ہوازوں کو بھی ممکنہ طور پر معاذ الکساسبہ جیسے خوفناک انجام سے دوچار ہونا پڑسکتا ہے۔

تاہم امریکی حکومت کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ ابھی تک متحدہ عرب امارات داعش کے خلاف عالمی جنگ میں ہمارا اتحادی ہے اور اس کی جانب سے باضابطہ طور پر داعش کے خلاف آپریشن معطل کرنے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ داعشی جنگجوئوں ‌نے 24 دسمبر 2014ء کو اردن کے پائلٹ معاذ الکساسبہ کو اس کے جنگی طیارے کومار گرانے کے بعد یرغمال بنالیا تھا۔ پرسوں منگل کو اسے زندہ جلا کردیا گیا اور اس کی ویڈیو فوٹیج بھی جاری کی گئی تھی۔ معاذ کے وحشیانہ قتل کے بعد داعش کے خلاف جنگ میں سرگرم ممالک نے شدید رد عمل کا اظہار کیا تھا۔