.

امریکا کا ریسکیو طیارہ اورعملہ شمالی عراق منتقل

یرغمال اردنی پائیلٹ کے داعش کے ہاتھوں اندوہناک قتل کے بعد اقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوج نے داعش کے خلاف جنگ کے دوران گر کر تباہ ہونے والے طیاروں کے پائیلٹوں کو بچانے اور اٹھانے کے لیے اپنے خصوصی طیارے اور عملے کو شمالی عراق میں منتقل کردیاہے۔

امریکا کے ایک دفاعی عہدے دار نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ''وہ اپنے بعض اثاثوں کو عراق کے شمالی علاقے میں منتقل کررہے ہیں''۔اس اقدام کا مقصد داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں ممکنہ طور پر گرنے والے طیاروں کے پائیلٹوں تک کم سے کم وقت میں پہنچنا ہے تاکہ انھیں داعش کے ہتھے چڑھنے سے قبل ہی کسی محفوظ مقام پر منتقل کیا جاسکے۔

امریکی فوج نے یہ اقدام داعش کے ہاتھوں منگل کے روز اردن کے یرغمال پائیلٹ معاذ الکساسبہ کے اندوہناک قتل کے بعد کیا ہے۔قبل ازیں امریکی فوج کا سرچ اور ریسکیو عملہ کویت میں تعینات تھا اور بدھ کو امریکی حکام نے یہ اطلاع دی تھی کہ فوج اردنی پائیلٹ کو زندہ جلائے جانے کے افسوس ناک واقعے کے بعد ریسکیو طیارے اور ماہرین کو کسی نزدیک ترین محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا جائزہ لے رہی ہے۔

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ سرچ اور ریسکیو ٹیموں اور طیارے کو شمالی عراق میں منتقل تو ضرور کیا گیا ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ وہاں اوسپریز طیارے کو بھی منتقل کیا گیا ہے۔یہ طیارہ ہیلی کاپٹر کی طرح اڑان بھرتا ہے مگرعام لڑاکا طیارے کی طرح اڑتا ہے۔

واضح رہے کہ داعش کے خلاف مہم کے دوران 24 دسمبر کو اردن کا ایک ایف سولہ لڑاکا طیارہ شام میں گر کر تباہ ہوگیا تھا اور داعش کے جنگجوؤں نے اس کے پائیلٹ معاذ الکساسبہ کو یرغمال بنا لیا تھا۔انھوں نے ایک ماہ دس دن تک اس پائیلٹ کو یرغمال بنائے رکھنے کے بعد تین روز قبل ایک پنجرے میں بند کرکے زندہ جلا دیا تھا۔

امریکی صدر براک اوباما نے اردنی پائیلٹ کی اندوہناک موت کے بعد کہا تھا کہ اس سے عالمی اتحاد کے داعش کو شکست دینے کے عزم میں اضافہ ہوا ہے۔امریکا عراق اور شام میں داعش کے خلاف اس فضائی مہم میں قائدانہ کردار ادا کررہا ہے اور اس کے لڑاکا طیاروں نے اسّی فی صد سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں۔

امریکا نے عراق میں 8 اگست 2014ء کو داعش کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔اس مہم میں اس کے ساتھ آسٹریلیا ،بیلجیئم ،کینیڈا ،ڈنمارک ،فرانس ،نیدر لینڈز اور برطانیہ کے لڑاکا طیارے بھی شریک ہیں جبکہ شام میں داعش کے ٹھکانوں پر سعودی عرب ،اردن اور متحدہ عرب امارات کے جنگی طیارے حملے کررہے ہیں۔