.

اردن: داعش کے ناقد علامہ مقدسی جیل سے رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن میں حکام نے جیل میں قید القاعدہ کے سابق روحانی رہ نما اور داعش کے ناقد شیخ ابو محمد المقدسی کو رہا کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق انھیں جمعرات کو اسٹیٹ سکیورٹی پراسیکیوٹر کے حکم پر رہا کیا گیا ہے۔البتہ فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ انھیں جیل سے اچانک کیوں چھوڑا گیا ہے۔

علامہ مقدسی کے جیل سے باہر آنے سے دوروز قبل القاعدہ سے وابستہ عراق اور شام میں سخت گیردہشت گرد گروپ داعش نے اردن کے یرغمال پائیلٹ معاذ الکساسبہ کو زندہ جلا دیا تھا اور اس کو زندہ جلائے جانے کی ایک ویڈیو جاری کی تھی۔

ایک سکیورٹی ذریعے نے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ علامہ مقدسی کی جانب سے پائیلٹ کو زندہ جلائے جانے کے واقعے کی مذمت متوقع تھی۔انھوں نے اس عمل کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا ہے۔

وہ عراق میں القاعدہ کے مقتول لیڈر ابو مصعب الزرقاوی کے روحانی رہ نما رہے تھے لیکن بعد میں وہ القاعدہ کی جانب سے شہریوں کے بلا امتیاز قتل کے بعد ان کی حمایت سے دستبردار ہوگئے تھے۔علامہ مقدسی گذشتہ کئی سال سے جیل میں قید تھے۔انھیں گذشتہ سال اکتوبر میں داعش کے خود ساختہ خلیفہ ابو بکر البغدادی پر تنقید کے بعد مختصر وقت کے لیے رہا کیا گیا تھا۔

اُس وقت اردنی حکام کو ملک کے سرحدی علاقوں میں عسکریت پسندی کے پھیلنے کے خدشات لاحق تھے اور وہ اس بات کے خواہاں تھے کہ علامہ مقدسی داعش کی چیرہ دستیوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔اردن کے ایک مقامی ٹی وی چینل رؤیا نے جمعرات کو رات گئے یہ اطلاع نشر کی تھی کہ علامہ مقدسی کا جمعہ کو انٹرویو نشر کیا جا رہا ہے۔