.

ترکی: جاسوسی ٹیپ کیس، مزید چھاپہ مار کارروائیاں

استنبول پراسیکیوٹرز کی جانب سے 21 پولیس افسروں کے وارنٹ گرفتاری جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں پولیس نے صدر رجب طیب ایردوآن اور دوسرے اعلیٰ عہدے داروں کے فون ٹیپ کرنے کے اسکینڈل میں ملوّث مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے نئی چھاپہ مار کارروائیاں کی ہیں۔

ترکی کی سرکاری اناطولیہ نیوز ایجنسی کی اطلاع کے مطابق استنبول کے پراسیکیوٹرز نے اکیس پولیس افسروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوا ہے کہ ان میں سے کتنے پولیس افسروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔تاہم این ٹی وی ٹیلی ویژن نے متعدد مشتبہ افراد کی تصاویر نشر کی ہیں ،جنھیں سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس افسر گرفتار کر کے لے جارہے ہیں۔

اناطولیہ کی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر چھاپہ مار کارروائیاں استنبول میں کی گئی ہیں۔اس کے علاوہ مغربی شہر افیون اور بحیرہ اسود کے کنارے واقع شہر زانگلدک میں بھی پولیس نے مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیےچھاپے مارے ہیں۔

ترک حکام نے ان پولیس افسروں پر الزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے امریکا میں مقیم دانشور علامہ فتح اللہ گولن کے ایماء پر صدر رجب طیب ایردوآن اور دوسرے اعلیٰ عہدے داروں کے فون ٹیپ کیے تھے اور اس طرح کرپشن کا ایک اسکینڈل گھر کر انھیں اس میں ملوّث قرار دینے کی کوشش کی تھی۔

ترک پولیس گذشتہ مہینوں کے دوران سابق اعلیٰ پولیس عہدے داروں کی گرفتاری کے لیے متعدد چھاپہ مار کارروائیاں کر چکی ہے اور 22 جولائی 2014ء کے بعد یہ ان کی نویں بڑی کارروائی ہے۔

ترک حکام نے گذشتہ ہفتے گولن تحریک سے وابستہ ایک بنک کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا تھا۔ترکی کی حزب اختلاف نے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور اس کو ایک سکینڈل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے سرمایہ کاروں کا ترکی پر اعتماد مجروح ہوگا۔

گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد پر الزام ہے کہ انھوں نے اگست 2014ء تک رجب طیب ایردوآن اور دوسرے اعلیٰ عہدے داروں کے فون ٹیپ کیے تھے۔ایردوآن اس وقت ملک کے وزیراعظم تھے۔ان کے خفیہ ٹیپس فروری 2014ء میں منظرعام پر آئے تھے۔ان میں سے ایک میں وہ اپنے بیٹے بلال سے مبینہ طور پر یہ گفتگو کرتے ہوئے سنے گئے تھے کہ وہ تین کروڑ ستر لاکھ ڈالرز کی رقم کو ٹھکانے لگا دیں۔صدر ایردوآن نے ان ریکارڈنگز کو مسترد کردیا تھا۔

ترکی میں حکمراں اشرافیہ کے رشوت اور بدعنوانی میں ملوّث ہونے کا یہ بڑا اسکینڈل دسمبر2013ء میں پہلی مرتبہ منظرعام پر آیا تھا۔ بدعنوانی کے اس بڑے اسکینڈل کی تحقیقات کو رجب طیب ایردوآن کی حکومت اور امریکا میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے بااثر ترک مسلم اسکالر فتح اللہ گولن کے حامیوں کے درمیان کشیدگی کا شاخسانہ قراردیا گیا تھا۔

علامہ فتح اللہ گولن اگرچہ امریکا میں رہ رہے ہیں لیکن ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے پیروکار ترک حکومت ،پولیس اور عدلیہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔وہ شاذ ونادر ہی عوامی بیانات جاری کرتے ہیں۔ان کا گذشتہ منگل کو نیویارک ٹائمز میں ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ترکی کے قائدین ملک کو مطلق العنانیت کی جانب لے جارہے ہیں۔

ترک حکومت نے اس اسکینڈل کے بعد گولن تحریک کے تحت چلنے والے اسکولوں اور دوسرے اداروں پر بھی بعض قدغنیں لگادی تھیں۔اس نے انٹرنیٹ پر اپنا کنٹرول سخت کردیا تھا اور ٹویٹر پر بھی دو ہفتے کے لیے پابندی عاید کردی تھی۔ترک حکومت کو میڈیا پر قدغنوں کی وجہ سے بین الاقوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔