.

سابق یمنی صدر نے حوثی بغاوت مسترد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں شیعہ حوثی شدت پسندوں کی بغاوت اور اقتدار پر قبضے کے بعد ملک کے سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

ماضی میں حوثیوں کی حمایت کے الزامات کا سامنا کرنے والے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت نے بھی حوثیوں کے اقدام کو ملک کے خلاف 'بغاوت' قرار دیتے ہوئے تمام سیاسی قوتوں سے حوثیوں کی بغاوت کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سابق صدر کے زیر قیادت جنرل پیپلز کانگرس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثیوں نے مذاکرات اور بات چیت کی راہ سے فرار اختیار کرتے ہوئے بغاوت کا راستہ اپنایا ہے۔ حوثیوں کی جانب سے اقتدار پر غیر قانونی طریقے سے قبضے کو کالعدم قرار دینے کے لیے تمام سیاسی قوتیں میدان میں نکلیں۔ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور بات چیت کے ذریعے ملک کو در پیش بحران کا کوئی دیرپا حل نکالیں۔

یمنی کی سوشلسٹ پارٹی کی جانب سے حوثیوں ‌کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اپنے سیاسی مطالبات کے حصول کے لیے طاقت اور تشدد کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے بات چیت کا راستہ اپنائیں۔

خیال رہے کہ حال ہی میں یمن میں حوثی شدت پسندوں ‌نے حکومت کا تختہ الٹںے کے بعد اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ حوثیوں کی جانب سے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کے بعد ایک صدارتی کونسل تشکیل دی گئی ہے جو عبوری عرصے میں‌ پارلیمنٹ کی جگہ ملک کا انتظام وانصرام سنھبالے گی۔