.

یمن میں حوثی بغاوت کے خلاف عوامی احتجاج

صنعا یونیورسٹی کے سامنے تبدیلی اسکوائر سے گرفتاریاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن سے 'العربیہ' نیوز چینل کی بیورو رپورٹ کے مطابق دارلحکومت میں مظاہرہ کرنے والوں پر حکومت کا تختہ الٹنے والے باغی حوثیوں نے براہ راست فائرنگ کی ہے۔ مظاہرین حوثیوں کی جانب سے پارلیمنٹ کی تحلیل اور ملک کو سیکیورٹی اور آئینی بحران سے دوچار کرنے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق مسلح حوثیوں نے صنعاء یونیورسٹی کے باہر بڑے پیمانے پر گرفتاریوں بھی کیں۔ ادھر صدارتی محل کے باہر بارودی سرنگ دھماکے میں کم سے کم دو افراد ہلاک ہوئے۔

یمن کے دارلحکومت سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں حوثی بغاوت اور حالیہ دستوری اعلانات کی مذمت میں مظاہرے کئے گئے۔

صنعاء یونیورسٹی کے سامنے تبدیلی اسکوائر میں نوجوانوں نے بہت بڑا مظاہرہ کیا۔ دارلحکومت کی مختلف کالونیوں میں حوثی اقدامات کے خلاف احتجاجی ریلیاں بھی نکالیں گئیں۔ ان میں شریک مظاہرین نے حوثیوں کے اقدامات کو قومی اجماع کے فیصلوں کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا۔

یمن کے شہر تعز میں حوثی اقدامات کے خلاف سب سے زیادہ غم و غصہ دیکھنے میں آیا، وہاں پر ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی میں حوثیوں کے خلاف تقاریر کی گئیں۔ نیز وسطی یمن کی ایب گورنری، البیضاء اور مدینہ الحدیدہ میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالیں گئیں۔

ادھر یمن کے لئے اقوام متحدہ کے ایلچی جمال بن عمر نے دارلحکومت صنعاء واپسی پر حوثیوں کے دستوری اعلانات کی شدید مذمت کی ہے۔ بن عمر نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ مذاکرات کے نتیجے میں پہنچنے والے قومی اتفاق رائے کا احترام کریں۔