.

یمن پر حوثیوں کا قبضہ، تہران کی کارستانی ہے: تجزیہ کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایران نواز حوثی شدت پسندوں کے ڈرامائی انداز میں اقتدار پر قبضے اور منتخب حکومت کو ختم کرنے کی کارروائی پر عالمی سطح پر شدید رد عمل دیکھنے میں آیا ہے لیکن دوسری جانب تجزیہ کارروں کا کہنا ہے کہ حوثیوں کا نہایت سرعت کے ساتھ اقتدار پر قبضے کے پس پردہ ایران کا ہاتھ ہے۔

'العربیہ' ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یمن میں حوثیوں کی مسلح بغاوت اور اقتدار پر قبضے کے بعد خلیجی ممالک نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثیوں کا یمن کے اقتدار پر قبضہ خطے میں ایران کے سیاسی اثرو نفوذ میں اضافے کا موجب بنے گا۔ امریکا اور سلامتی کونسل نے بھی حوثیوں کی بغاوت کی مذمت کرتے ہوےے دھمکی دی ہے کہ اگر حوثیوں نے مذاکرات کا راستہ اختیار نہ کیا تو ان پر اقوام متحدہ کی ذریعے پابندیاں عاید کی جائیں ‌گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن میں جس تیزی اور ڈرامائی انداز میں حوثیوں نے حکومت کا تختہ الٹنے میں کامیابی حاصل کی وہ اندرونی اور بیرونی معاونت کے بغیر ممکن نہیں۔ بیرون ملک سے حوثیوں کو سب سے زیادہ معاونت ایران کی جانب سے فراہم کی گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران، مشرق وسطیٰ میں اپنے سیاسی اثر ورسوخ کی خاطر اپنی حلیف قوتوں کو اقتدار دلانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ یمن میں حوثیوں کی مدد کر کے اقتدار کی تبدیلی بھی ایران کی ہی ایک 'سازش' ہے۔ یمن میں حوثی باغیوں کا قبضہ خطے میں ایرانی پرچم لہرانے کے لیے نقطہ آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد ایران دیگر خلیجی ممالک اور مصر تک اپنے پنجے پھیلانے کی کوشش کرے گا۔

خیال رہے کہ یمن میں ‌حوثی شدت پسندوں کی پہلی بغاوت 2004ء میں ہوئی تاہم اسے ناکام بنا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے حوثی یمنی حکومت کے لیے مسلسل درد سر بنے رہے ہیں۔ ماہرین ماضی میں ‌بھی ایران اور حوثیوں کے باہمی تعلقات کے دعوے کرتے رہے ہیں۔ ایران نے بھی یمن میں حوثیوں کی مسلح بغاوت کی کھل کر حمایت کی ہے۔