.

''جوہری ڈیل، ڈیڈ لائن میں توسیع کسی کے مفاد میں نہیں''

ایرانی وزیرخارجہ کی میونخ میں جان کیری سے اچانک ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ جوہری پروگرام کے معاملے پر کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے ڈیڈلائن میں مزید توسیع کسی کے مفاد میں نہیں ہوگی لیکن اگر کوئی ڈیل طے نہیں پاتی ہے تو اس سے دنیا کا خاتمہ نہیں ہوجائے گا۔

انھوں نے یہ بات میونخ میں سکیورٹی کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے اس موقع پر امریکی وزیرخارجہ جان کیری اور جرمن ،روسی اور برطانوی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ایران اور چھے بڑی طاقتوں نے جوہری تنازعے پر کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے 30 جون کی ڈیڈلائن مقرر کررکھی ہے۔

جواد ظریف نے اس تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:''میں یہ خیال نہیں کرتا کہ اس ڈیڈلائن میں ایک اور توسیع کسی کے مفاد میں ہوگی کیونکہ میں یہ یقین بھی نہیں کرتا تھا کہ یہ توسیع ضروری یا کارآمد تھی''۔

درایں اثناء ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ اگر چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والا سمجھوتا ان کی قوم کے مفادات کے منافی نہیں ہوتا تو وہ اس کی حمایت کریں گے اور اس کی تیاری میں بھی شامل ہوں گے۔

انھوں نے اتوار کو ایرانی فضائیہ کے افسروں سے خطاب میں کہا کہ ''ہمارے جوہری مذاکرات کار دشمن سے پابندیوں کا ہتھیار چھیننے کی کوشش کررہے ہیں۔اگر وہ ایسا کرسکتے ہیں تو یہ بہت بہتر ہوگا۔اگر وہ ناکام رہتے ہیں تو ہرکسی کو جان لینا چاہیے کہ ہمارے پاس اس ہتھیار کو ناکارہ کرنے کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں''۔

جرمنی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک ایران کے ساتھ جوہری تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات کررہے ہیں۔وہ مارچ کے آخر تک ایران کے ساتھ مجوزہ سیاسی سمجھوتے کو حتمی شکل دینا چاہتے ہیں اور اس کے بعد جون کے آخر تک جوہری تنازعے کے تصفیے کے لیے تیکنیکی تفصیلات طے کی جائیں گی۔اگر فریقین کے درمیان معاہدہ طے پاجاتا ہے تو اس کے تحت ایران حساس جوہری کام سے دستبردار ہوجائے گا اور اس پر عاید مغربی مممالک کی پابندیاں ختم کردی جائیں گی۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری یورپی شہروں میں ایرانی ہم منصب جواد ظریف سے جوہری تنازعے کو طے کرنے کے لیے متعدد ملاقاتیں کر چکے ہیں لیکن دونوں کو اپنے اپنے ممالک میں سخت گیروں کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے۔امریکی کانگریس کے ارکان نے یہ دھمکی دے رکھی ہے کہ وہ مارچ کے بعد ایران پر مزید پابندیاں عاید کرنے کی کوشش کریں گے۔