.

ایرانی خفیہ ایجنسی کا اہم عہدیدار عراق میں داعش کے ہاتھوں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں پاسداران انقلاب کے مقرب ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ انٹیلیجنس کور "نصر 5" کے اسسٹننٹ چیف میجر جنرل محمد رضا مقدم عراق کے شہر سامراء میں‌ دولت اسلامی "داعش" کے حملے میں ‌ہلاک ہو گئے ہیں۔

ایران کے فارسی نیوز ویب پورٹل "ابنا" کے مطابق جنرل حسینی مقدم عراق۔ایران جنگ میں بھی حصہ لے چکے ہیں، جس میں وہ زخمی بھی ہوئے تھے۔ ہفتے کے روز وہ عراق کے شہر سامراء ‌میں داعش کے جنگجوئوں کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہو گئے۔ انہیں ان کی وصیت کے مطابق عراق کے شہر نجف کے ایک قبرستان میں دفن کیا گیا۔

جنرل حسینی مقدم سامراء میں داعش کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے چوتھے اہم ایرانی فوجی عہدیدار ہیں۔ اس سے قبل 26 جنوری کو اسی شہر میں ایران کے بم ساز حسین شاکری بھی ہلاک ہوئے۔ حسین شاکری سے قبل جنرل قاسم سلیمانی کے معاون جنرل حمید تقوی اور جنرل مہدی نوروزی بھی داعش کے ہاتھوں ‌مارے گئے تھے۔

گذشتہ برس شمالی عراق کی صلاح الدین گورنری میں ھاون راکٹ حملوں میں ایرانی پائلٹ شجاعت علم داری مورجانی اور کرنل کمال شیر خانی ہلاک ہوئے تھے۔

ایران کا دعویٰ‌ ہے کہ وہ عراق کے عسکری شعبے میں ‌صرف مشاورت کی حد تک معاونت کر رہا ہے۔ اس کا کوئی فوجی عراق میں براہ راست لڑائی میں شریک نہیں‌ ہے لیکن ایران کا یہ دعویٰ اہم عسکری عہدیداروں کی داعش کے حملوں میں ہلاکت نے غلط ثابت کیا ہے۔ ایرانی فوجی اور اہم عہدیدار عراق میں غیر سرکاری شیعہ ملیشیا کے روپ میں جنگ میں حصہ لیتے ہیں۔