.

ابوظہبی کے ولی عہد کا شاہ سلمان کو خراجِ تحسین

یو اے ای میں توانائی کا مستقبل محفوظ ہے:دبئی میں منعقدہ گورنمنٹ سمٹ میں تقریر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید الناہیان نے سعودی عرب کے نئے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے نئی سعودی نسل کے لیے ترقی کی راہ ہموار کردی ہے۔

انھوں نے یہ بات دبئی میں منعقدہ بین الاقومی گورنمنٹ سمٹ میں سوموار کو تقریر کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے اپنی تقریر کا آغازسعودی عرب کے مرحوم فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی وفات پر تعزیتی کلمات سے کیا اور نئے شاہ سلمان کے اقتدار سنبھالنے پر سعودی عرب کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ''اب اس کا اقتدار قابل اعتماد ہاتھوں میں ہے''۔شاہ عبداللہ مختصر علالت کے بعد گذشتہ ماہ انتقال کر گئے تھے۔ان کی جگہ شاہ سلمان نے عنان حکومت سنبھالی ہے۔

شیخ محمد نے اپنی تقریر میں مستقبل کے توانائی کے وسائل کے حوالے سے خوش کن جذبات کا اظہار کیا۔انھوں نے متحدہ عرب امارات کے قدرتی وسائل کے حوالے سے اپنا یہ اندازہ پیش کیا ہے کہ یہ آیندہ پچاس سال تک چل سکتے ہیں اور اس کے بعد ختم ہوجائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود ''جہاز رواں دواں ہے''۔

انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی معیشت مضبوط ہے اور چیلنجز کا سامنا کرسکتی ہے۔انھوں نے یو اے ای کی جانب سے صاف توانائی اور جوہری توانائی سے بجلی کے حصول کے لیے سرمایہ کاری کا بھی تذکرہ کیا۔

واضح رہے کہ یو اے ای پہلا خلیجی ملک ہے جو توانائی کے حصول کے لیے جوہری پاور پلانٹ کی تعمیر شروع کرنے والا ہے۔توانائی کے استعمال میں اضافے اور گیس کی نامناسب سپلائی کی وجہ سے متحدہ عرب امارات نیو کلئیر پاور کے حصول کی جانب متوجہ ہوا ہے تا کہ توانائی کے وسائل کو مختلف النوع بنایا جاسکے۔

شیخ محمد کا کہنا تھا کہ ''ہم مستقبل کا جائزہ لے رہے ہیں،آیندہ پچاس سال کے بعد قدرتی وسائل ختم ہوجائیں گے۔سنہ 2017ء میں یو اے ای کے پہلے جوہری توانائی پلانٹ کا آغاز کیا جائے گا۔اس کی تکمیل کے بعد صاف توانائی میں ہماری سرمایہ کاری سے بجلی کی پچیس فی صد ضروریات پوری ہو سکیں گی''۔

ملک کی اقتصادی ترقی کی ایک اور مثال دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ یواے ای نے کامیابی سے دنیا میں دوسرا بڑا غیرملکی دولت فنڈ قائم کیا ہے اور گذشتہ سال اپریل کے اختتام پر اس کے اثاثوں کی مالیت 975 ارب ڈالرز ہوچکی تھی۔

انھوں نے خواتین کو متحدہ عرب امارات میں با اختیار بنانے کے حوالے کہا کہ ''ان کا کردار بڑا اہم ہے۔وہ ہنرمند ہیں اور کل ملکی آبادی کا پچاس فی صد ہیں''۔انھوں نے امارات کی ایک مینوفیکچرنگ کمپنی اسٹراٹا کے بارے میں بتایا کہ اس کی 83 فی صد افرادی قوت اماراتی خواتین پر مشتمل ہے۔اس کمپنی میں ائیربس ،بوئنگ طیاروں کے پرزے تیار کیے جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انھیں ایک اماراتی ہونے کے ناتے سے اپنے ملک کی خواتین پر فخر ہے۔

اس گورنمنٹ سمٹ میں دنیا بھر کے ستاسی ممالک کے وفود شرکت کررہے ہیں۔اس تین روزہ کانفرنس میں نظام حکمرانی اور نظم ونسق میں نئی جدّتیں لانے اور نئے نئے رجحانات متعارف کرانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے سوموار کو کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا ہے۔انھوں نے حکومتوں سے کہا کہ وہ اپنے اپنے عوام کی آوازوں پر کان دھریں۔