.

''سعودی عرب کا مصر سے متعلق مؤقف ناقابل تغیّر ہے''

شاہ سلمان کی مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ٹیلی فون پر بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانرواشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان قریبی دوستانہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق شاہ سلمان نے اتوار کو صدر السیسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''سعودی عرب کا مصر کے بارے میں مؤقف ''ناقابل تغیّر'' ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان تزویراتی تعلقات استوار ہیں اور ان کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تعلقات استوار ہیں اور ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے شاہ سلمان کے مصر کے بارے میں ان جذبات کو سراہا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور کویت نے عبدالفتاح السیسی کے جون 2014ء میں صدر بننے کے بعد سے مصر کی بھرپور سیاسی حمایت کی ہے اور اس کو اقتصادی امداد سے نوازا ہے۔صدرالسیسی برسراقتدار آنے کے بعد گذشتہ آٹھ ماہ سے ملک کو درپیش سیاسی ،اقتصادی اور سکیورٹی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہیں۔

مصری سکیورٹی فورسز اس وقت شورش زدہ جزیرہ نما سیناء اور ملک کے دوسرے علاقوں میں آئے دن ہونے والے بم دھماکوں،سرکاری اہلکاروں پر حملوں اور دہشت گردی کے دیگر واقعات کی روک تھام کے لیے کارروائیاں کررہی ہیں۔صدر السیسی اور ان کی حکومت کے دوسرے عہدے دار کالعدم قرار دی گئی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کو تشدد کے واقعات کا ذمے دار ٹھہراتے ہیں۔

لیکن اخوان نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کا تشدد سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور وہ پُرامن جدوجہد کررہی ہے۔اخوان المسلمون الٹا حکومت پر پُرامن مظاہرین کو کچلنے کے لیے طاقت کے وحشیانہ استعمال کے الزامات عاید کررہی ہے۔اس نے سکیورٹی فورسز پرسیکڑوں پُرامن مظاہرین کی ہلاکتوں کے الزامات عاید کیے ہیں۔