.

انور ابراہیم کی اپیل مسترد، اغلام بازی کی سزا برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملائشیا کی اعلیٰ ترین وفاقی عدالت نے حزبِ اختلاف کے رہ نما انور ابراہیم کو ایک مرد ملازم کے ساتھ جنسی تعلق کے الزام میں سنائی گئی سزا کو برقرار رکھا ہے۔ اس فیصلے کے بعد وہ سنہ 2018 ء میں ہونے والے عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

انور ابراہیم پر اپنے ایک مرد ملازم کے ساتھ سنہ 2008ء میں جنسی تعلق کا الزام عائد کیا گیا تھا جبکہ انھوں نے اپنے خلاف ان الزامات کو ہمیشہ سیاسی مخالفت کے تحت سازش قرار دیا ہے۔انھیں سنہ 2014ء میں پانچ سال کی سزا سنائی گئی تھی اور انھوں نے اس کے خلاف اپیل دائر کی تھی لیکن جج نے ان کی اپیل مسترد کردی ہے۔ فیصلے سے قبل انھوں نے کہا کہ ’انھیں مجھے جیل بھیجنے کی کوئی وجہ نہ مل سکی''۔

انھوں نے مزید کہا: ''میں بے قصور ہوں۔ مجھے اس معاملے میں سیاسی طور پر جیل بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ میں اس نظام کو جانتا ہوں، میں نے جیل میں وقت گزارا ہے لیکن پھر بھی ہمیں یہ قیمت ادا کرنی پڑی ہے''۔انور ابراہیم نے کہا:''15 برس بعد یہ لوگ دوبارہ مجھے جیل میں ڈالنا چاہتے ہیں اور اسی لیے یہ بوکھلائے ہوئے ہیں''۔

انور ابراہیم کی قیادت میں مئی سنہ 2013 کے انتخابات میں ملائیشیا کی حزبِ اختلاف کافی مستحکم ہوئی تھی۔ وہ سنہ 2008 اور 2013 میں منعقدہ انتخابات میں حزبِ اختلاف کے مضبوط رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئے تھے۔حزبِ اختلاف کی تین جماعتوں کے اتحاد کی قیادت کرنے والے انور ابراہیم کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ واحد شخصیت ہیں جو حکومتی اتحاد کے تسلط کو توڑ سکتے ہیں۔

سنہ 2008 میں انور ابراہیم پر مرد ملازم کے ساتھ جنسی تعلق کا الزام عاید کیا گیا تھا جس پر ہائی کورٹ نے انہیں مئی سنہ 2012 میں عدم ثبوتوں کی بنا پر بری کر دیا تھا لیکن حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی۔ان پر اس الزام کے تحت دو سال تک مقدمہ چلتا رہا۔ تاہم اس وقت جج ذبی دین دیاح کا کہنا تھا کہ استغاثہ کی جانب سے جمع کروائے گئے ڈی این اے کے شواہد قابلِ اعتماد نہیں ہیں اس لیے مقدمہ خارج کیا جاتا ہے۔

انور ابراہیم کا ردعمل

انور ابراہیم نے اپنے خلاف عاید کردہ بے بنیاد الزام اور اس عدالتی فیصلے کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مکمل طور پر بے قصور ہیں۔انھوں نے عدالتی حکم کے ردعمل میں ایک بیان میں کہا کہ '' مجھ پر من گھڑت الزام عاید کیا گیا ہے۔یہ ایک سیاسی سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد میرے سیاسی کیرئیر کو ختم کرنا ہے''۔

انھوں نے عدالت کے جج کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ ''آپ نے روز اول سے ہی میرے وکیل کی جانب سے پیش کیے گئے مقدمے پر کوئی توجہ نہیں دی ہے۔اور اس دلیل کی یہ بنیاد تھی کہ یہ واقعہ سرے سے ہوا ہی نہیں تھا''۔

انھوں نے کہا:'' یہ کیسا حسن اتفاق ہے کہ آج آپ کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے چند منٹ کے بعد ہی وزیراعظم نے اس پر ایک تفصیلی بیان بھی جاری کردیا ہے''۔

''آپ سیاسی آقاؤں کے ہاتھوں میں کھیل کر آزاد عدلیہ کے قتل کے جُرم میں شریک ہوگئے ہیں۔آپ نے اپنی روح کو شیطان کے ہاتھ بیچ دیا ہے۔آپ نے مادی فائدے کے لیے اپنے ضمیر کو بیچ دیا ہے۔آپ عدالت کی ماضی کی غلطی کو درست کرکے اپنا نام روشن کرسکتے تھے لیکن اس کے بجائے آپ نے تاریک سمت کا انتخاب کیا ہے''۔ان کا مزید کہنا تھا۔

سڑسٹھ سالہ انورابراہیم نے عدالتی فیصلے کے بعد اپنے اس جوابی بیان میں جج صاحب کو مخاطب کرکے اوربھی خوب بے نقط سنائی ہیں اور کہا ہے کہ ان کے فیصلوں کی تاریخ میں کوئی وقعت نہیں ہوگی بلکہ طلبہ ،وکلاء اور ماہرین ان کے سنائے ہوئے فیصلوں کو مسترد کردیں گے۔انھوں نے جج صاحب سے یہ بھی کہا ہے کہ ایک روز آپ نے اللہ کے سامنے بھی جواب دہ ہونا ہے۔اس لیے اس دن کی بھی تیاری کریں۔یاد رہے مسلم اکثریتی ملک ملائشیا میں ہم جنس پرستی اور اغلام بازی غیر قانونی ہے۔ تاہم اس الزام کے تحت بہت کم لوگوں کے خلاف مقدمہ چلایا گیا ہے۔