.

یمن: پارلیمنٹ کی بحالی پراتفاق، حوثیوں کی تردید

اقوام متحدہ کی نگرانی میں مفاہمتی مذاکرات کا آج دوسرا دور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں جاری سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے سے ایک اہم پیش رفت کی اطلاعات ہیں۔

صنعاء میں العربیہ ذرائع کا کہنا ہے کہ سوموار کے روز ملک کی اہم سیاسی جماعتوں نے اقوام متحدہ کے امن مندوب جمال بن عمرو کی موجودگی میں‌ منعقدہ اہم اجلاس کے دوران حوثیوں کی جانب سے معطل کی گئی پارلیمنٹ کی بحال اور اس میں مزید توسیع کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ کی تعداد 300 تک لے جانے پراتفاق کیا ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ آج منگل کو بھی جاری رہے گا جس میں تمام سیاسی دھڑوں کی نمائندگی کرنے والے سات رہ نمائوں پر مشتمل ریاستی کونسل کی تشکیل کا بھی اعلان کیا جائے گا۔

یمنی ذرائع ابلاغ کے مطابق سیاسی جماعتوں کےدرمیان طے پائے نئے نئے فارمولے کے تحت حوثیوں کی قائم صدارتی کونسل، ہنگامی صدارتی دستوری فرمان کالعدم قرار دے کر بات چیت کے ذریعے تمام جزئیات مکمل کرنے کے بعد متفقہ دستوری اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔

حوثیوں کی تردید

دوسری جانب ملک کی مقتدراہل تشیع مسلک کی حوثی جماعت نے سیاسی جماعتوں کے درمیان کسی نئے سیاسی لائحہ پراتفاق کی سختی سے تردید کی ہے۔ حوثی جماعت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ "فیس بک" کے اپنے خصوصی صفحے پر پوسٹ کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تحلیل شدہ پارلیمنٹ کی بحالی اور مجلس شوریٰ‌ میں توسیع کے حوالے سے ابھی تک کوئی مفاہمت نہیں‌ ہو سکی ہے، تاہم بات چیت کا عمل جاری ہے۔

خیال رہے کہ ایک ہفتہ قبل یمن میں حوثی شدت پسند جماعت کی "انصار اللہ" نے مسلح بغاوت کے ذریعے صدر عبد ربہ منصورھادی کی حکومت کا تختہ الٹںے کے بعد ملک کی منتخب پارلیمنٹ تحلیل کر دی تھی۔ حوثیوں‌ کے اس اقدام پر عالمی سطح پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

حوثی جماعت نے ملک میں بغاوت کے بعد جاری کردہ صدارتی اعلامیے پرقائم رہنے کا اعلان کیا ہے جبکہ دوسری جانب اقوام متحدہ نے ملک کی تمام ئمائندہ سیاسی قوتوں کو سیاسی عمل میں شریک ہونے کے لیے مذاکرات میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔