.

اسرائیلیوں کی ہلاکت کے ہم ذمہ دار نہیں: عشراوی

"مزاحمتی حملوں کا پی ایل او، فلسطینی اتھارٹی کو فائدہ نہیں ہوا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کی اعلیٰ حکومتی عہدیدار حنان عشراوی نے نیویارک میں جاری ایک مقدمے کی سماعت کے دوران بطور گواہ اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ اسرائیل کی جانب سے دائر اس مقدمے میں فلسطینی اتھارٹی اور تنظیم آزادی فلسطین [پی ایل او] کو فلسطینیوں کے حملوں کا شکار بننے والے اسرائیلی شہریوں کو تین ارب ڈالر کا معاوضہ ادا کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔

اسرائیل میں فائرنگ اور بم دھماکوں کا شکار بننے والے افراد اور ان کے خاندانوں نے فلسطینی اتھارٹی اور پی ایل او کو سال 2002ء سے 2004ء تک بیت المقدس میں ہونے والے چھ دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات کا ذمہ دار گردانتے ہوئے ان کے خلاف امریکی وفاقی عدالت میں مقدمہ درج کروایا ہے۔ ان واقعات میں 33 افراد ہلاک اور 450 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ متاثرہ افراد کا دعویٰ ہے کہ مدعا علیہان نے حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو مدد فراہم کی تھی۔

فلسطینیوں کے وکلاء نے امریکی وفاقی عدالت میں بحث کے دوران موقف اختیار کیا کہ ان کی حکومت کو چند افراد کے انفرادی عمل یا حماس جیسے مسلح گروپ کی ایماء پر کئے جانے والے حملوں کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

تنظیم آزادی فلسطین کی ایگزیکیٹو کمیٹی کی رکن حنان عشراوی نے کہا کہ آنجہانی یاسر عرفات اور دیگر رہنمائوں کے ساتھ ملکر انہوں نے کئی سال تک دہشت گردی کے خلاف امریکا اور اسرائیلی جنگ میں ان ملکوں کا ساتھ دیا۔

انہوں نے کہا "ان حملوں کی وجہ سے فلسطینی اتھارٹی اور پی ایل او یا مسئلہ فلسطین کی کسی صورت مدد نہیں ہو سکی ہے۔"

حنان عشراوی کی دو گھنٹوں پر محیط گواہی سے پہلے فلسطینی اتھارٹی کی انٹیلی جنس کے سربراہ ماجد فراج نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا۔

مدعیان کے وکلاء نے فلسطینیوں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے دہشت گردی میں ملوث افراد کو پیسے فراہم کئے ہیں تاکہ ان کی مدد کی جا سکے۔

فراج نے عدالت کو بتایا کہ پیسوں کی فراہمی کا مقصد ان افراد کے خاندانوں کی مدد کرنا اور ان کے لئے مالی مشکلات ختم کرنا ہے تاکہ وہ مستقبل میں مزید حملے نہ کریں۔