.

داعش نے 'نیوز ویک' کا ٹیوٹر اکائونٹ ہیک کر لیا

امریکی خاتون اول میشل اوباما اور بیٹیوں کو دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامی "داعش" کے جنگجوئوں کی جانب سے جریدہ 'نیوز ویک' کے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ 'ٹیوٹر' پر اکائونٹ کو مبینہ طور پر ہیک کیے جانے کے واقعے اور امریکی خاتون اول میشل اوباما اور ان کی دونوں بیٹیوں کو دھمکی آمیز پیغام پوسٹ کرنے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے 'ایف بی آئی' کے ترجمان گوش ایرنسٹ نے بتایا کہ گذشتہ شب ہیکرز نے جریدہ 'نیوز ویک' کا ٹیوٹر اکائوٹ ہیک کرنے کے بعد اس پر 'میں داعش ہوں' کا پیغام پوسٹ کرنے کے ساتھ ایک دھمکی آمیز بیان میں‌ صدر اوباما کی اہلیہ کو پیغام دیا کہ "ہم آپ کا اور آپ کی دونوں‌بیٹیوں کا تعاقب کر رہے ہیں"۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی نے "داعش" کے اس دھمکی آمیز بیان کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور اب نیوز ویک کا اکائونٹ بھی بحال کر دیا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی' اے ایف پی' کے مطابق ہیکروں‌ نے ' نیوز ویک' کا اکائونٹ ہیک کرنے کے بعد اس پر 'الیکٹرانک خلافت' ٹیگ لگانے کے ساتھ لکھا کہ 'میں ‌داعش' ہوں۔ ممکنہ طور پر یہ پیغام جنوری میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے مرتکب فرانسیسی جریدے 'چارلی ایبڈو' سے اظہار یکجہتی کا جواب ہے جس میں جریدے کی حمایت کرنے والوں نے 'میں چارلی ایبڈو' ہوں کے الفاظ استعمال کیے تھے۔

ہیکرز کی جانب سے پوسٹ کی گئی ایک ٹویٹ میں میشل اوباما کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ "ہم آپ کا اور آپ کی صاحبزادیوں کا پیچھا کر رہے ہیں"۔

جریدے کا اکائونٹ کچھ دیر ہیک کیے جانے کے بعد انتظامیہ نے اسے بحال کر دیا جس کے بعد قارئین کو بتایا گیا کہ اکائونٹ کو ہیک کیا گیا تھا۔

نیوز ویک کا کہنا ہے کہ جس گروپ نے جریدےکا ٹیوٹر اکائونٹ ہیک کیا ہے وہی امریکی سینٹرل کمانڈ کے سوشل میڈیا پر موجود متعدد اکائونٹ کو ہیک کرنے کی کوششیں کر چکے ہیں۔

ایف بی آئی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حالیہ کچھ عرصے کے دوران شدت پسندوں کے حامی ہیکرز نے متعدد ابلاغی اداروں کی ویب سائیٹس اور امریکی حکام کے اہم نوعیت کے اکائونٹس کو ہیک کرنے کے لیے سائبر حملے کیے ہیں۔

سائبر حملوں کی روک تھام کے لیے امریکی کانگریس نے قانون سازی بھی شروع کی ہے۔ اسی سلسلے میں امریکی صدر براک اوباما یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکی شہریوں اور ان کی املاک کے تحفظ کے لیے آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔