.

صنعا:برطانوی اور فرانسیسی سفارت خانوں میں کام بند

دونوں ممالک نے یمن سے سفیروں اور سفارتی عملے کو واپس بلا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ اور فرانس نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں سکیورٹی کی ابتر صورت حال اور طوائف الملوکی کے پیش نظر اپنے سفارت خانوں میں کام معطل کردیا ہے اور سفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے جبکہ فرانس نے یمن میں موجود اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جتنا جلد ممکن ہو سکے،وطن لوٹ آئیں۔

ان دونوں ممالک سے قبل امریکا نے صنعا میں اپنا سفارت خانہ غیرمعینہ مدت کے لیے بند کر دیا ہے اور اپنے سفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے۔برطانوی دفتر خارجہ نے لندن میں ایک بیان میں کہا ہے کہ صنعا میں سفارت خانے میں سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کی گئی ہیں۔

دفتر خارجہ کے وزیر ٹوبیاس ایل ووڈ نے کہا ہے کہ ''یمن میں حالیہ دنوں کے دوران سکیورٹی کی صورت حال خراب تر ہوئی ہے۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے اور ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہاں ہمارے سفارتی عملے اور سفارت خانے کے لیے خطرات بڑھ گئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ''اس ابتر صورت حال کے پیش نظر ہم نے صنعا میں برطانوی سفارت خانے میں عارضی طور پر کام معطل کرنے اور اپنے سفارتی عملے کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ہمارے سفیر اور سفارتی عملہ آج (بدھ کی) صبح یمن سے برطانیہ واپسی کے لیے روانہ ہوگئے ہیں''۔

واضح رہے کہ یمن سنہ 2012ء میں سابق مطلق العنان صدر علی عبداللہ صالح کی اقتدار سے رخصتی کے بعد سے بد امنی کا شکار ہے اور اب ستمبر2014ء سے ملک کے شمال سے تعلق رکھنے والے مسلح حوثی شیعہ باغیوں نے دارالحکومت صنعا میں قبضہ کررکھا ہے۔ان کی یلغار کے بعد یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی اور وزیراعظم خالد بحاح اپنے عہدوں سے مستعفی ہوچکی ہیں۔

حوثی باغیوں نے گذشتہ ہفتے پارلیمان کو چلتا کیا تھا اور اپنے ہی جاری کردہ فرامین کے تحت ملک کا اقتدار سنبھال لیا تھا لیکن ان کی دارالحکومت میں دراندازی اور نظام حکومت میں دخیل ہونے کے خلاف شہری احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔دوسری جانب یمن کے جنوبی صوبوں میں علاحدگی کی تحریک چل رہی ہے جبکہ ان صوبوں میں القاعدہ کے جنگجو بھی سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار ہیں۔؛