.

القاعدہ کا جنوبی یمن میں فوجی کیمپ پر قبضہ،7 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوبی صوبے شبوۃ میں القاعدہ کے جنگجوؤں نے فوج کے ساتھ لڑائی کے بعد ایک کیمپ پر قبضہ کر لیا ہے۔ایک مقامی عہدے دار کے مطابق جھڑپوں میں سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

القاعدہ کے جنگجوؤں نے شبوۃ کے قصبے بیحان میں فوج کے انیسویں انفینٹری بریگیڈ کے کیمپ پر قبضہ کیا ہے۔ان کے ساتھ لڑائی میں تین فوجی مارے گئے ہیں۔یمن میں القاعدہ کی شاخ انصارالشریعہ نے ٹویٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں فوجی کیمپ پر حملے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ کیمپ میں موجود فوجی دارالحکومت صنعا میں قابض ہونے والے حوثی شیعہ باغیوں کے ساتھ وابستہ تھے۔

اس نے اپنے جنگجوؤں کی تصاویر بھی شائع کی ہیں جو کیمپ کے داخلی دروازے پر القاعدہ کے سفید اور سیاہ رنگ والے پرچم کو آویزاں کررہے ہیں۔قبائلی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگجوؤں نے دسیوں فوجیوں کو پکڑ لیا تھا اور ان کے ہتھیار بھی چھین لیے ہیں لیکن قبائل کی مداخلت کے بعد فوجیوں کو چھوڑ دیا ہے۔قبائل اب القاعدہ سے ہتھیار واپس دینے کا بھی مطالبہ کررہے ہیں۔

القاعدہ کے جنگجوؤں نے جنوبی یمن میں یہ حملہ امریکا ،فرانس اور برطانیہ کی جانب سے صنعا میں اپنے سفارت خانوں کو بند کرنے کے اعلان کے ایک روز بعد کیا ہے۔ان تینوں ممالک نے صنعا میں حوثی شیعہ باغیوں کے حکومت پر قبضے کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنے سفیروں اور سفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا یمن سے تعلق رکھنے والی جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کواس انتہا پسند عالمی نیٹ ورک کی دنیا بھر میں سب سے خطرناک شاخ قرار دیتا ہے۔القاعدہ کی اسی شاخ نے گذشتہ ماہ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبار چارلی ہیبڈو پر حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس حملے میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

امریکا گذشتہ چھے برسوں سے یمن میں القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف ڈرون حملے کررہا ہے۔نیو امریکا فاؤنڈیشن کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق امریکا نے سنہ 2009ء کے بعد یمن میں 110 سے زیادہ ڈرون حملے کیے ہیں۔ستمبر 2011ء میں بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے ایک میزائل حملے میں یمنی نژاد امریکی شہری اور القاعدہ کے لیڈر انور العولقی ہلاک ہوگئے تھے۔ان پر جنگجوؤں کو امریکا پر حملوں کی شہ دینے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔