.

داعش کے ساتھ کاروبار پر پابندی کے لیے قرارداد منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ساتھ کسی قسم کے کاروبار پر پابندی کے لیے قرارداد اتفاق رائے سے منظور کر لی ہے۔

قرارداد میں شام میں داعش اور القاعدہ سے وابستہ گروپ النصرۃ محاذ سے تیل کا لین دین کرنے والوں پر پابندیوں کی دھمکی دی گئی ہے اور اس میں رکن ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے یرغمالی شہروں کی رہائی کے بدلے میں اغوا کاروں کو تاوان کی ادائی کا سلسلہ بند کردیں۔

اس قرار داد کو اقوام متحدہ کے رکن پینتیس ممالک نے مشترکہ طور پر سلامتی کونسل میں پیش کیا تھا۔اس میں کہا گیا ہے کہ شام میں داعش اور النصرۃ محاذ کے ساتھ تیل کی تجارت کرنے والے افراد اور اداروں پر پابندیاں عاید کردی جائیں گی۔اس میں اقوام متحدہ کے رکن تمام ایک سو ترانوے ممالک پر زوردیا گیا ہے کہ وہ عراق اور شام سے نوادرات اور ثقافتی املاک کی تجارت کو روکنے کے لیے بھی مناسب اقدامات کریں۔

قرارداد میں دنیا بھر کی حکومتوں سے یہ تقاضا کیا گیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کو ان کے ہاں یرغمال افراد کی رہائی کے لیے ادا کی جانے والی رقوم یا سیاسی مراعات سے براہ راست یا بالواسطہ فائدہ نہ اٹھانے دیں۔قرارداد کی اس شق میں یورپی حکومتوں کو مخاطب کیا گیا ہے جو اپنے شہریوں کی رہائی کے لیے بالعموم تاوان ادا کرنے پر آمادہ ہوجاتی ہیں۔

اس قرارداد کا مسودہ اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ سات کے تحت تیار کیا گیا تھا۔اس پر پابندیوں یا طاقت کے استعمال کے ذریعےعمل درآمد کرایا جاسکتا ہے۔یہ اور بات ہے کہ مسودے میں فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت دینے کا ذکر نہیں ہے۔

سلامتی کونسل میں منظورکردہ قرارداد کا ابتدائی مسودہ روس نے تیار کیا تھا اور اس میں تیل کی اسمگلنگ کو روکنے پر زیادہ زوردیا گیا تھا لیکن بعد میں اس پر نظرثانی کی گئی ہے اور داعش کے ساتھ ہرقسم کے لین دین پر پابندی کو مسودے میں شامل کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ میں متعیّن امریکی سفیر سمانتھا پاور کا کہنا تھا کہ اس قرارداد کے ذریعے دنیا کی حکومتوں کو تیل کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے واضح عملی ہدایات دے دی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی القاعدہ پر پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم نے نومبر میں ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں بتایا تھا کہ جہادی شام میں تیل کی فروخت سے روزانہ ساڑھے آٹھ لاکھ ڈالرز سے ساڑھے سولہ لاکھ ڈالرز تک رقوم کما رہے تھے۔تاہم اب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تیل داعش کی آمدن کا بڑا ذریعہ نہیں رہا ہے۔

اس قرارداد سے ترکی پر دباؤ بڑے گا کیونکہ اس کو تیل کی فروخت کے لیے تجارتی گذرگاہ سمجھا جاتا ہے اور وہاں سے مصفیٰ مصنوعات سے بھرے ٹرک شام اور عراق لوٹتے ہیں۔اس میں تمام حکومتوں کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ داعش پر مالی قدغنوں کے لیے اقدامات سے متعلق سلامتی کونسل کو ایک سو بیس روز کے اندر رپورٹ کریں۔

سلامتی کونسل نے گذشتہ سال اگست میں بھی ایک قرارداد منظور کی تھی۔اس کے تحت عراق اور شام میں برسرپیکار جنگجوؤں کے مالی وسائل قطع کرنے اور غیرملکی جنگجوؤں کی ان دونوں ممالک میں آمد روکنے پر زوردیا گیا تھا۔اس میں ان جہادیوں کے ساتھ تیل کی تجارت کرنے والے ممالک کو خبردار کیا گیا تھا کہ ان پر پابندیاں عاید کی جا سکتی ہیں۔