.

فرانس اور مصر فوجی ہارڈوئیر کی ڈیل پر متفق

معاہدے کے تحت فرانس مصر کو لڑاکا طیارے اور جنگی بحری جہاز دے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس اور مصر نے پانچ ارب ستر کروڑ ڈالرز مالیت کے ایک فوجی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔اس کے تحت فرانس مصر کو رفال لڑاکا طیارے ،ایک جنگی بحری جہاز اور میزائل فروخت کرے گا۔

اس معاہدے کے تحت مصر فرانسیسی ہارڈ وئیر سے اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرسکے گا اور وہ فرانس کے جدید لڑاکا طیارے رفال درآمد کرنے والا پہلا ملک بن جائے گا۔فرانسیسی اخبار لی موندے نے جمعرات کو دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے پر اتفاق کی کی اطلاع دی ہے۔ایک فرانسیسی ذریعے نے اس کی تصدیق کی ہے۔

لی موندے نے لکھا ہے کہ ''اس معاہدے پر آیندہ سوموار کو مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور فرانسیسی عہدے دار ،ممکنہ طور پر صدر فرانسو اولاند یا وزیر دفاع ژاں وائی ویس لی ڈرائین دستخط کریں گے''۔

فرانسیسی وزارت دفاع کے ایک عہدے دار نے اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس پر ابھی دستخط ہونا ہیں،اس لیے وہ اس کی تفصیل نہیں بتاسکتے۔اس ڈیل کے تحت فرانس مصر کو طیارہ ساز کمپنی داسالٹ کے تیار کردہ چوبیس رفال لڑاکا جیٹ ،ایک فریم جنگی بحری جہاز اور فضا سے فضا میں اورزمین سے فضا میں مار کرنے والے ایم بی ڈی اے میزائل مہیا کرے گا۔

فریم جنگی بحری جہاز فرانس کی سرکاری ملکیتی فرم ڈی سی این ایس تیار کرتی ہے اور اس کے پینتیس فی صد حصص فرانسیسی گروپ ٹیلز کے پاس ہیں۔ایم بی ڈی اے میزائل ائیربس گروپ ،برطانیہ کی کمپنی بی اے ای سسٹمز اور اٹلی کی فنمیکانیکا مشترکہ طور پر تیار کرتی ہیں۔

واضح رہے کہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے گذشتہ ماہ اس سمجھوتے کی اطلاع دی تھی اور بتایا تھا کہ مصر کی ایک کمیٹی نے اس پر بات چیت کے لیے پیرس کا سفر کیا ہے۔تاہم انھوں نے اس کے لیے یہ شرط عاید کی تھی کہ''مصر کو بھاری فوجی آلات مہیا کرنے سے متعلق مجوزہ سمجھوتا کم لاگت ،فوری اور نرم شرائط پر قرضے کی سہولت پر مبنی ہونا چاہیے''۔