.

مغربی سفارتی مشنوں کی بندش غیر منصفانہ :حوثی ملیشیا

امریکی سفارت خانے کی قبضے میں لی گئی گاڑیاں واپس کرنے کا وعدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعا میں قبضہ کرنے والی حوثی شیعہ ملیشیا نے بعض مغربی ممالک کی جانب سے اپنے سفارت خانوں کی بندش کے فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ وہ امریکی سفارت خانے کی قبضے میں لی گئی گاڑیوں کو واپس کردے گی۔

امریکا ،برطانیہ اور فرانس نے صنعا میں امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور طوائف الملوکی کے پیش نظر بدھ کو اپنے سفارت خانوں کو بند کردیا تھا اور سفارتی عملے کو واپس بلا لیا تھا۔امریکا نے تو اپنا سفارت خانہ غیر معینہ مدت کے لیے بند کیا ہے جبکہ فرانس اور برطانیہ نے عارضی طور پر اپنے سفارت خانوں کو بند کیا ہے۔انھوں نے یہ اقدام حوثی باغیوں کی جانب سے گذشتہ جمعے کو اقتدار پر قبضے کے بعد کیا ہے۔

لیکن حوثی ملیشیا کے خارجہ تعلقات کے سربراہ حسین العزی نے کہا ہے کہ سفارت خانوں کو بند کرنے کا اقدام یمنی عوام پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا گیا ہے اور یہ غیر منصفانہ فیصلہ ہے۔

یمن کی سرکاری خبررساں ایجنسی سبا کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق عزی نے کہا:''سفارت خانے بند کرنے والے ممالک کو بہت جلد یہ ادراک ہوجائے گا کہ یمنی عوام کی منشاء کے مطابق مثبت انداز میں اقدام ان کے اپنے مفاد میں ہے اور انھیں یمنی عوام کی منشاء کا احترام کرنا چاہیے''۔

امریکی سفارت خانے کے عملے نے گذشتہ روز دستاویزات ،کمپیوٹرز اور ہتھیار ضائع کردیے تھے اور وہ عجلت میں صنعا سے واپس جاتے ہوئَے اپنی گاڑیاں ہوائی اڈے پر ہی چھوڑ گئے تھے۔حوثی باغیوں نے تین سفارتی کاروں اور سفارتی مشن کی سکیورٹی پر مامور میرینز کے زیر استعمال پچیس گاڑیوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

حسین العزی نے ان گاڑیوں پر قبضے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ان کو حفاظت کے نقطہ نظر سے لے جایا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ صنعا میں ہوائی اڈے کے حکام ان گاڑیوں کو کسی قابل اعتماد تیسرے فریق اقوام متحدہ وغیرہ کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں۔

حوثی باغیوں نے 6 فروری کو یمنی پارلیمان کو تحلیل کردیا تھا اور اپنے ہی جاری کردہ فرامین کے ذریعے ایک عبوری قومی کونسل کے قیام کا اعلان کیا تھا جو پارلیمان کی جگہ لے گی۔ایک اور فرمان میں پانچ ارکان پر مشتمل ایک صدارتی کونسل کے قیام ذکر کیا گیا ہے۔اس صدارتی کونسل کو عبوری قومی اسمبلی منتخب کرے گی۔

حوثی شیعہ باغی ملک کے شمالی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اب وہ خود کو حزب اختلاف کی کرپشن مخالف تحریک کے علمبردار کے طور پر پیش کررہے ہیں۔تاہم یمن کے متعدد سیاسی دھڑوں اور شہری تنظیموں نے حوثی باغیوں کی جانب سے جاری کردہ ان فرامین اور احکامات کو مسترد کردیا ہے۔بعض غیرملکی طاقتوں یورپی یونین وغیرہ نے بھی ان کو غیر قانونی قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔