.

یوکرین سمٹ: جنگ بندی اور ہتھیاروں کے انخلاء پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتین نے اطلاع دی ہے کہ انھوں ںے اور فرانس، جرمنی اور یوکرین کے لیڈروں نے یوکرین کے اگلا محاذوں سے بھاری ہتھیاروں کے انخلاء اور 15 فروری سے جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے۔

انھوں نے یہ بات بیلارس کے دارالحکومت منسک میں کئی گھنٹے کے مذاکرات کے بعد جمعرات کو نیوز کانفرنس میں بتائی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مذاکرات کے شرکاء اہم نکات اور 15 فروری کو آدھی رات سے جنگ بندی سے متفق ہوگئے ہیں''۔

روسی صدر نے کہا کہ دوسرا اہم نکتہ یوکرینی فوج کے موجودہ محاذوں سے بھاری ہتھیاروں کی واپسی ہے۔ان کو 19 ستمبر کو منسک میں ڈونباس باغیوں کے ساتھ طے پائے سجھوتے کے وقت کی جگہ پر منتقل کردیا جایا گیا۔

پوتین اور ان کے یوکرینی ہم منصب پیٹرو پوروشنکو نے بتایا ہے کہ کیف اور روس نواز باغیوں نے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ایک روڈ میپ پر دستخط کیے ہیں۔اس کا مقصد گذشتہ دس ماہ سے جاری تنازعے کا خاتمہ ہے۔ روسی صدر کا کہنا تھا کہ انھوں نے معاہدہ منسک پر عمل درآمد کے لیے مختلف اقدامات کے نفاذ سے اتفاق کیا ہے۔

انھوں نے مشرقی یوکرین میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں آئینی اصلاحات اور ان کو خصوصی درجہ دینے کی ضرورت پر بھی زوردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ''ہم اس مفروضے کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں کہ مستقبل قریب میں جنگ بندی سے قبل تمام فریق ضبط وتحمل کا مظاہرہ کریں گے''۔

انھوں نے منسک مذاکرات کے طول کھینچنے کی یہ وجہ بتائی ہے کہ کیف حکومت باغیوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر آمادہ نہیں تھی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اگرچہ ان کو تسلیم نہیں کرتے تھے لیکن زندگی کی حقیقتوں کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔

واضح رہے کہ یوکرینی حکومت اور روس نواز علاحدگی پسند باغیوں کے درمیان گذشتہ سال ستمبر میں جنگ بندی کے لیے ابتدائی سمجھوتا طے پایا تھا۔ان مذاکرات میں یوکرین کے مشرقی شہروں دونتسک اورلوہانسک کی خود ساختہ ''عوامی جمہوریہ'' کے لیڈروں نے حصہ لیا تھا اور تب روسی صدر ولادی میر پوتین نے بحران کے حل کے لیے ایک سات نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا۔

تاہم جنگ بندی کی اس ڈیل کے باوجود یوکرین کے مشرقی علاقے لوہانسک میں اپریل 2014ء میں مسلح تحریک برپا کرنے والے علاحدگی پسندوں کے لیڈر کا کہنا تھا کہ وہ یوکرین سے الگ ہونا چاہتے ہیں اور اس کا حصہ نہیں رہنا چاہتے ہیں۔

یوکرین ماضی میں روسی حکومت پر مشرق میں برسرپیکار علاحدگی پسند باغیوں کی پشتی بانی اور انھیں اسلحہ مہیا کرنے کے الزامات عاید کرتا رہا ہے۔یوکرین کے ان علاقوں میں آبادی کی اکثریتی روسی زبان بولتی ہے اور وہ اسی وجہ سے یوکرین کے بجائے روس کے ساتھ الحاق کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔