.

'مسلمان طلبہ کا قاتل منافرت آمیز مراسلت کا رسیا تھا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی پولیس کا کہنا ہے کہ شمالی کیرولینا میں مسلمان خاندان کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے کے واقعے کا مذہبی منافرت سے تعلق نہیں ہے جبکہ سوشل میڈیا پر مسلمان طلبہ کے قاتل نے نفرت آمیز مراسلت کی بھرمار کر رکھی تھی۔

شمالی کیرولینا یونیورسٹی کے طلبہ کے چہروں پر صدمے کے آثار نمایاں ہیں۔ یہ صدمہ انہیں چیپل ہِل میں نارتھ کیرولینا یونیورسٹی کے قریب واقع رہائشی کالونی میں تین عرب طلبہ کو گولیاں مار کر قتل کرنے کے واقعے سے پہنچا ہے۔

ہزاروں اہل علاقہ نے دل دہلا دینے والے واقعہ کے سوگ میں خاموشی اختیار کی اور مرنے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کیں۔ مظاہرین نے حکومت سے فوری طور پر اس واقعے کے محرکات کی جانچ شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔

اس دلخراش قتل کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے، تاہم امریکی پولیس کا موقف ہے کہ ان ہلاکتوں کا مسلمانوں کے خلاف منافرت کی مہم سے تعلق نہیں۔ پولیس کے مطابق واقعہ ہمسایوں کے درمیان کار پارکنگ کے تنازع کے بعد شروع ہوا۔

مسلمان فیملی کے قاتل کریگ اسٹیفن ہکس کو پہلے درجے کے قتل کے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا ہے اور وہ ماضی میں اپنے سماجی نیٹ ورک اکاونٹس کے ذریعے تقریبا تمام ہی ادیان کے خلاف ہرزہ سرائی کیا کرتا تھا۔

اس قتل کی انٹرنیٹ پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ ٹویٹر پر اس واقعے کی شد و مد سے مذمت کا سلسلہ جاری ہے، ابتک 800 ہزار افراد اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں جبکہ امریکی ذرائع ابلاغ نے اس پر چپ سادھ رکھی ہے۔