.

"یمن کی سیاسی صورت حال گھمبیر ہو چکی ہے"

مفاہمی مذاکرات ہی ملک کو بچا سکتے ہیں: یو این مندوب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے امن مندوب جمال بن عمر نے کہا ہے کہ ملک میں ‌جاری سیاسی رسا کشی طویل خانہ جنگی کا باعث بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ متحارب فرییقن کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور مفاہمت کے لیے ہرممکن کوششیں جاری رکھے گا۔

یو این مندوب نے ان خیالات کا اظہار العربیہ اور الحدث ٹیلی ویژن چینلز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں‌ کیا۔ انہوں‌ ںے کہا کہ یمن کے تمام داخلی مسائل کا ‌حل اور انتشار کا خاتمہ بات چیت اور مفاہمتی مذاکرات میں مضمر ہے۔

یمن کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے جمال عمر نے کہا کہ سیاسی اعتبار سے یمن اس وقت ایک مشکل دور سے گذر رہا ہے۔ حالات کی خرابی کا ذمہ دار کوئی ایک گروپ نہیں بلکہ ہر ایک اپنی جگہ موجودہ صورت حال کا ذمہ دار ہے۔ سب نے غلطیاں نہیں بلکہ حماقتیں کی ہیں۔

خاص طور پر تشدد کے ذریعے طاقت کے حصول کی کوششوں ‌نے یمن کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ سیاسی عمل کو آگے بڑھانے اور بات چیت کی راہ اپنانے کے بندوق سے مطالبات منوانے کی کوششیں اگر اسی ڈگر پر جاری رہیں تو یمن کا مستقبل مزید تاریک ہو سکتا ہے۔

انہوں ‌نے کہا کہ اقوام متحدہ یمن کے ساتھ ہے اس سے مشکل میں تنہا نہیں چھوڑے گی مگر ملک کو درپیش سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو اپنےگروہی مفادات سے بھی اوپر اٹھنا ہو گا۔ انہوں نے اس امر کا اظہار زور دیکر کیا کہ مفاہمتی بات چیت کے سوا یمن کے بحران کا اور کوئی حل نہیں ‌ہے۔

انہوں ‌نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے یک طرفہ طور پر دستوری اعلان اور نظام حکومت کو معطل کرنے سے مسائل مزید گھمبیر ہوئے۔ انہوں ‌نے حوثی شدت پسندوں سے مطالبہ کیا کہ وہ طاقت آزمائی کے بجائے مذاکرات کی طرف آئیں اور دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر ملک کا نظم نسق چلانے کی اصول اختیار کریں۔