.

ترکی:اسکولوں میں مذہبی تعلیم کے خلاف مظاہرے

پولیس کا مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اورواٹرکینن کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے دارالحکومت انقرہ اور مغربی ساحلی شہر ازمیر سمیت مختلف شہروں میں حکومت مخالفین نے اسکولوں میں مذہبی تعلیم کے احیاء کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور کلاسوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹرکینن کا استعمال کیا ہے اور دس سے افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

دوغان نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حکومت مخالفین نے ازمیر شہر کے وسط میں جمع ہو کر احتجاج کیا ہے۔انھوں نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے۔پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے پانی پھینکا ہے اور سادہ کپڑوں میں ملبوس سکیورٹی اہلکاروں نے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔انقرہ میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا ہے۔

ترک روزنامے حریت نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ ملک بھر میں حکومت کی تعلیمی اسکیم کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا اہتمام ٹیچرز یونین اور اقلیتی علوی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی تنظیموں نے کیا تھا۔استنبول میں پولیس نے مظاہرے سے دس مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ملک کے اس سب سے بڑے شہرمیں مظاہرے میں اسکولوں کے طلبہ سمیت سیکڑوں افراد نے شرکت کی ہے۔

ترکی میں حکمراں اسلام پسند جماعت انصاف اور ترقی پارٹی (آق) سے تعلق رکھنے والے صدر رجب طیب ایردوآن اور سیکولرسٹوں کے درمیان معاشرے میں مذہب کی عمل داری کے حوالے سے شدید اختلافات پائے جاتے ہیں اور سیکولرسٹ حکومت پر اب تعلیم کو بھی اسلامی رنگ میں ڈھالنے کے الزامات عاید کررہے ہیں اور اس مخالفت کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ حکومت نے بعض ریگولر اسکولوں کی عمارتوں کے ایک حصے کو ''امام حاطب'' مذہبی اسکولوں کے طلبہ وطالبات کے لیے مختص کیا ہے۔ان اسکولوں میں بچیوں اور بچوں کو الگ الگ تعلیم دی جاتی ہے۔ان اسکولوں میں اس وقت زیرتعلیم طلبہ وطالبات کی تعداد قریباً دس لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔سنہ 2002ء میں جب آق پارٹی برسراقتدار آئی تھی تو ان اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد صرف 65 ہزار تھی۔