.

داعش نے مصر کے 21 قبطی مسیحی اغوا کر لئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے مصری شہریوں کو جلد از جلد لیبیا سے واپس بلانے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔ مصری حکومت کی جانب سے یہ اعلان دولت اسلامی عراق و شام [داعش] کی جانب سے 21 قبطی مصریوں کے اغواء کے بعد کیا گیا ہے۔

مصر کی وزارت خارجہ نے ایک بار پھر مصری شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ لیبیا کا سفر نہ کریں اور ہمسایہ ملک میں رہنے والے شہریوں سے درخواست کی کہ وہ چوکنا رہیں اور کشیدگی والے علاقوں سے دور رہیں۔

درایں اثناء مصری اخبار 'الاہرام آن لائن' نے ایک صدارتی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ مصر، لیبیا سے 21 قبطی مصریوں کے اغوا کے بعد ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

داعش نے جمعرات کے روز تصاویر جاری کی ہیں جن میں مصری شہریوں کو نارنجی رنگ کی ڈانگریوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔

صدارتی بیان میں بتایا گیا "مغوی مصری شہریوں کی واپسی کے لئے بنائی گئی ایک خصوصی کمیٹی اس معاملے پر لمحہ بہ لمحہ نظر رکھے ہوئے ہے اور متعلقہ لیبیائی فریقوں سے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر رابطے کررہی ہے تاکہ صورتحال واضح ہوسکے اور سچ سامنے آ سکے۔"

داعش نے دعویٰ کیا کہ ہے کہ انہوں نے ان افراد کو مصری قبطی چرچ کی جانب سے مسلمان خواتین کے اغواء کا بدلہ لینے کے لئے اغوا کیا ہے۔

مغویوں کو 'قبطی صلیبیوں' کے نام سے بلانے والی داعش کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اسلام قبول کرنے والی مصری مسیحی خواتین کو قبطی چرچ نے اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا اور قتل کردیا۔

مصر میں مسیحی خواتین کو اسلام قبول کرنے سے روکے جانے کے الزامات پر کچھ قبطی مسیحیوں اور مسلمانوں کے درمیان جھگڑے ہوتے رہے ہیں مگر ان الزامات کو کبھی سرکاری سطح پر قبول نہیں کیا گیا ہے۔