.

صنعا:سعودی سفارت خانے میں تمام سرگرمیاں معطل

سعودی عرب نے یمن میں متعین سفارتی عملے کو واپس بلا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثی شیعہ باغیوں کے حکومت پر قبضے اور امن وامان کی مخدوش صورت حال کے پیش نظر اپنے سفارت خانے میں تمام کام معطل کردیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کی اطلاع کے مطابق سعودی عرب نے یمن سے اپنے سفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے۔سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے نے وزارت خارجہ کے ایک ذریعے کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ یمنی دارالحکومت میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی ہوئی صورت حال اور ابتر سیاسی حالات کے پیش نظر سعودی عرب نے جمعہ سے تمام سفارتی سرگرمیاں معطل کردی ہیں اور اپنے سفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے جو بہ حفاظت واپس پہنچ گیا ہے۔

سعودی عرب پہلا عرب ملک ہے جس نے صنعا سے اپنے سفارتی عملے کو واپس بلایا ہے۔ اس سے دو روز قبل امریکا ،برطانیہ اور فرانس نے صنعا میں طوائف الملوکی کے پیش نظر اپنے سفارت خانوں کو بند کردیا تھا اور سفارتی عملے کو واپس بلا لیا تھا۔

امریکا نے تو اپنا سفارت خانہ غیر معینہ مدت کے لیے بند کیا ہے جبکہ فرانس اور برطانیہ نے عارضی طور پر اپنے سفارت خانوں کو بند کیا ہے۔انھوں نے یہ اقدام حوثی باغیوں کی جانب سے گذشتہ جمعے کو اقتدار پر قبضے کے بعد کیا ہے۔

حوثی ملیشیا نے ان مغربی ممالک کی جانب سے سفارت خانوں کی بندش کے فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام یمنی عوام پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا گیا ہے اور یہ غیر منصفانہ فیصلہ ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے جمعرات کو سلامتی کونسل میں یمن کی صورت حال پر بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔انھوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ اس ملک کو مکمل طوائف الملوکی کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

انھوں نے کہا کہ ''یمن ہماری آنکھوں کے سامنے تباہ ہورہا ہے،ہمیں اس کو تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنا چاہیے اور یمن میں سیاسی عمل کو دوبارہ پٹڑی پر چڑھانا چاہیے''۔

ان سے قبل اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی جمال بن عمر نے بدھ کو العربیہ نیوز اور اس کے سسٹر چینل الحدث سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ملک خانہ جنگی کے دہانے پر کھڑا ہے۔انھوں نے تمام فریقوں کو یمن میں سیاسی اور اقتصادی بحران کا ذمے دار قرار دیا ہے۔