.

شام میں ایرانی پاسدارن انقلاب کے دو افسر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے جنوبی شہر درعا میں اپوزیشن کی نمائندہ فوج ’’جیش الحر‘‘ کے حملے میں ایرانی پاسدارن انقلاب کے دو سینیر افسر ہلاک ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے شام میں اپنے فوجی افسروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ یہ واقعہ گذشتہ جمعرات کو پیش آیا تھا۔

پاسداران انقلاب کی مقرب نیوز ایجنسی’’فارس‘‘ کی رپورٹ کے مطابق دونوں فوجی اہلکار درعا کے شمال مغربی علاقے کفر نساج میں اپوزیشن فوج کے حملے میں مارے گئے۔ ان کی شناخت علی سلطان مرادی اورعباس عبداللہ کے ناموں سے کی گئی ہے۔ دونوں کی میتیں ابھی تک ایران کے حوالے نہیں کی گئی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق درعا میں پچھلے چند ہفتوں کے دوران بشارالاسد کی حامی لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور پاسداران انقلاب کے فوجیوں کی شامی اپوزیشن کی فوج کے ساتھ خون ریز لڑائی جاری رہی ہے۔ حزب اللہ اور پاسداران انقلاب کے فوجیوں نے درعا میں اپوزیشن کے مراکز پرکئی بارحملے کیے لیکن انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

شام کے اپوزیشن اتحاد کی ویب سائیٹ پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ درعا شہر میں پچھلے چند ماہ میں ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم تنظیم القدس بریگیڈ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کرتے رہے ہیں لیکن ان کےمحاذ جنگ میں زخمی ہونے کی بھی اطلاعات آئی ہیں۔

شامی اپوزیشن کے سابق نائب صدر محمد قداح کا کہنا ہے کہ اپوزیشن فوج نے درعا میں لڑائی کے دوران، ایران، افغانستان اور لبنان کی شہریت رکھنے والے کئی جنگجوئوں کو حراست میں لیا ہے۔ جلد ہی انہیں منظرعام پر لایا جائے گا۔