.

پائپ لائن میں دھماکے سے لیبی بندرگاہ کو تیل سپلائی معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے ساحلی شہر طبرق میں السریر ائل ریفائنری اور الحریقہ بندرگاہ کے درمیان بچھائی گئی تیل پائپ لائن کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا جس کےنتیجے میں بندرگاہ کو تیل کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔

الحریقہ بندرگاہ کے ڈائریکٹر رجب عبدالرسول نےایک بیان میں بتایا کہ ملک کے جنوب مغرب میں واقع السریر آئل ریفائنری سے الحریقہ بندرگاہ تک تیل سپلائی کرنے والی پائپ لائن کو نامعلوم افراد نے دھماکوں سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں تیل کی سپلائی رک گئی ہے۔

خیال رہے کہ السریر آئل ریفائنری ملک کے جنوب میں طرابلس حکومت کے زیر کنٹرول تیل کا اہم ترین مرکز ہے۔ تیل کے اس کارخانے کو دو متحارب گروپوں نے پچھلے کئی روز سے محاصرے میں لے رکھا ہے۔

رجب عبدالرسول کا کہنا تھا کہ السریر آئل ریفائنری سے الحریقہ بندرگاہ کو تیل کی فراہمی کے لیے بنائی گئی پائپ لائن کو ریمورٹ کنٹرول بم سے تباہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی گھنٹے گذر جانے کے باوجود امدادی ٹیمیں آگ پر قابو پانے ناکام ہیں۔ ابھی تک کسی گروپ نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

یاد رہے کہ الحریقہ بندرگاہ کو تیل کی سپلائی کے لیے ایک ہفتہ قبل ہی کھولا گیا تھا۔ گذشتہ ہفتے بندرگاہ کے سیکیورٹی عملے نے ہڑتال کر دی تھی۔ تاہم ہڑتال ختم ہونے کے باوجود دو اہم آئل ریفائنریوں سے تیل کی سپلائی بند ہے۔ ماضی میں السریر ریفائنری سے 20 ہزار بیرل تیل یومیہ کے حساب سے تیل صاف کیا جاتا رہا ہے۔

ملک میں جاری شورش کے نتیجے میں السریر سے بھی تیل کی سپلائی معطل ہوتی رہی ہے۔ سنہ 2011ء میں لیبیا میں یومیہ 16 لاکھ بیرل تیل کی نکاسی ہو رہی تھی اور اب یہ مقدار تین لاکھ پچاس ہزار بیرل تک گر چکی ہے۔