.

ڈنمارک:فائرنگ کرنے والا مشتبہ حملہ آور ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں پولیس نے دو مختلف مقامات پر فائرنگ کرنے والے حملہ آور کو گولی مار ہلاک کردیا ہے۔اس مشتبہ شخص کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ڈینش پولیس نے اس مشتبہ حملہ آور کی ویڈیو نگرانی کے بعد کہا ہے کہ اسی نے ہفتے کے روز ایک ثقافتی مرکز میں منعقدہ ''اسلام اور آزادی اظہار رائے'' کے موضوع پر مباحثے کے دوران فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور تین پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔اس کے بعد اتوار کی صبح اس نے یہود کی ایک عبادت گاہ کے باہر فائرنگ کرکے ایک اور شخص کو ہلاک کردیا تھا۔

پولیس کے چیف انسپکٹر ٹوربن مولگارڈ جینسن نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ پولیس ٹاسک فورس کی نورے پورٹ اسٹیشن پر فائرنگ سے ہلاک ہونے والے شخص کے بارے میں ہمارا شُبہ یہ ہے کہ اس نے ہی دونوں مقامات پر فائرنگ کی تھی۔

قبل ازیں خبررساں ایجنسی رائیٹرز نے پولیس ترجمان ایلن ٹیڈی واڈسورتھ ہانسن کے حوالے سے اطلاع دی تھی کہ ایک مسلح شخص نے یہود کی ایک عبادت گاہ کے باہر کھڑے شخص کو سر میں متعدد گولیاں ماری ہیں جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا ہے۔اس کے بعد اس کا پولیس کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا اور پھر وہ جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

پولیس نے فائرنگ کے پہلے واقعے کے بعد ڈینش دارالحکومت کے مختلف علاقوں کا محاصرہ کر لیا تھا لیکن پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی کرفیو نہیں ہے بلکہ شہریوں کو آنے جانے کی آزادی ہے اور یہ کارروائی شہریوں کے تحفظ کے پیش نظر کی گئی ہے۔پولیس اسی محاصرے کی وجہ سے مشتبہ حملہ آور کا گھیراؤ کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی اور اس نے فائرنگ کے دوسرے واقعے کے چند ہی گھنٹے بعد اس کو ہلاک کردیا ہے۔

امریکا نے کوپن ہیگن میں فائرنگ کے پہلے واقعے کے فوری بعد ایک مذمتی بیان جاری کیا تھا۔وائٹ ہاؤس نے اس بیان میں کہا تھا کہ امریکا ضرورت پڑنے پر واقعے کی تحقیقات کے لیے ڈنمارک کی مدد کو تیار ہے۔