.

کوپن ہیگن میں دہشت گردی کی دوہری واردات

اظہار آزادی رائے سیمنار میں شریک فرانسیسی سفیر محفوظ رہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں ایک کیفے میں جان لیوا حملے کے کچھ ہی گھنٹے بعد یہودی عبادت گاہ کے قریب فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔

شہر میں فائرنگ کا تازہ ترین واقعہ ہفتےکی شب ہوا جب کرسٹل گیڈ سٹریٹ پر واقع عبادت گاہ کے قریب نامعلوم شخص نے فائرنگ کی۔

ڈینش پولیس کا کہنا ہے کہ اس فائرنگ سے ایک شخص کے سر میں گولی لگی اور وہ جانبر نہ ہو سکا جبکہ حملے میں دو پولیس اہلکاروں کو بازو اور ٹانگ میں چوٹیں آئی ہیں۔

حملہ آور کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ فائرنگ کے بعد پیدل فرار ہونے میں کامیاب رہا ہے۔

ڈنمارک پولیس کے مطابق آزادی رائے کے بارے میں سیمینار سے فرانسیسی سفیر نے بھی خطاب کیا اور اس میں پیغمبرِ اسلام کے خاکے بنانے والے سویڈن کے متنازعہ کارٹونسٹ ’لارس ولکس‘ بھی شریک تھے۔

اطلاعات کے مطابق عمارت کے باہر 40 سے زیادہ گولیاں چلائی گئیں۔ حملے کے کچھ دیر بعد ہی فرانسیسی سفیر ’فرانسوا زمئغ‘ نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

اس حملے کے نتیجے میں سامنے آنے والی ایک آڈیو ریکارڈنگ میں ایک مقرر کی تقریر میں اچانک گولیوں کی آواز سے خلل پیدا ہوتا سنائی دیتا ہے۔

عینی شاہدین نائلز اوار لارسن نے 'اے پی' سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں نے ایک خودکار مشین گن سے فائرنگ کی آواز سنی اور پھر کسی کے چیخنے کی آوازیں سنیں۔ جب پولیس نے جوابی فائرنگ کی تو میں بار کے نیچے چھُپ گیا۔‘

کوپن ہیگن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پولیس نے عمارت کو گھیرے میں لے کر علاقے کی ناکہ بندی کردی ہے اور مقامی پارک کی بھی تلاشی لی جا رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ دو مشتبہ حملہ آوروں کی تلاش میں ہیں جو حملے کی جگہ سے کار میں فرار ہو گئے۔

یہ بحث جو ایک کیفے میں منعقد ہوئی کے بارے میں لارس ولکس نے اپنی ذاتی ویب سائٹ پر لکھا کہ اس کا موضوع یہ تھا کہ آزادئ اظہار کے فنکارانہ اظہار کی کوئی حد ہونی چاہیے یا نہیں؟

اس تقریب کے حوالے سے دستیاب تفصیل میں لکھا گیا تھا کہ کیا فنکاروں کو خصوصاً چارلی ایبڈو کے حملے کے بعد اپنے فن کے اظہار کرتے ہوئے توہین کا ارتکاب کرنے کی جرات کرنی چاہیے یا نہیں؟

لارس ولکس کو درپیش خطرات کے حوالے سے لکھا گیا تھا کہ جہں بھی وہ پبلک میں خطاب کرتے ہیں وہاں ’سخت سکیورٹی‘ ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ 2007 میں لارس ولکس نے پیغمبرِ اسلام کے گستاخانہ خاکے بنائے تھے جس کے خلاف دنیا بھر میں مسلمانوں نے احتجاج کیا تھا۔ سیمینار کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ واضح طور پر لارس ولکس پر کیا گیا ہے۔