.

فرانس کا مصر سے رافال جیٹ کی فروخت کے لیے معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس اور مصر نے سوموار کو ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت فرانس مصر کو چوبیس رافال لڑاکا طیارے فروخت کرے گا۔

فرانس کی طیارہ ساز فرم داسالٹ ایوی ایشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایرک ٹریپئیر نے صدارتی محل قاہرہ میں اربوں ڈالرز مالیت کے اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔اس موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور فرانسیسی وزیردفاع ژاں واویس لی دریان بھی موجود تھے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب میں لی دریان نے کہا کہ ''ہمارے دونوں ممالک اس وقت دہشت گردی کے خلاف ایک مشترکہ جدوجہد میں شریک ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کا یہ ایک نیا دور ہے۔اس معاہدے سے رافال جیٹ لڑاکا طیاروں کے اہرام میں سب سے اوپر آجائے گا''۔

اس معاہدے پر ایسے وقت میں دستخط کیے گئے ہیں جب مصری فوج کے ایف سولہ لڑاکا طیاروں نے لیبیا میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔داعش نے اس سے پہلے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں اس کے نقاب پوش جنگجوؤں کو اکیس مصری قبطی عیسائیوں کے سرقلم کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔انھیں داعش نے جنوری سے یرغمال بنا رکھا تھا۔

واضح رہے کہ فرانسیسی اور مصری حکام نے گذشتہ ہفتے پانچ ارب ستر کروڑ ڈالرز مالیت کے ایک فوجی معاہدے کو حتمی شکل دی تھی۔اس کے تحت فرانس مصر کو رافال لڑاکا طیاروں کے علاوہ ایک جنگی بحری جہاز اور میزائل فروخت کرے گا۔

یوں مصر فرانسیسی ہارڈوئیر سے اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرسکے گا اور وہ فرانس کی داسالٹ ایوی ایشن کے تیار کردہ جدید لڑاکا طیارے رافال سب سے پہلے درآمد کرنے والا ملک بن جائے گا۔فرانس مصر کو فریم جنگی بحری جہاز اور فضا سے فضا میں اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایم بی ڈی اے میزائل مہیا کرے گا۔

فریم جنگی بحری جہاز فرانس کی سرکاری ملکیتی فرم ڈی سی این ایس تیار کرتی ہے اور اس کے پینتیس فی صد حصص فرانسیسی گروپ ٹیلز کے پاس ہیں۔ایم بی ڈی اے میزائل ائیربس گروپ ،برطانیہ کی کمپنی بی اے ای سسٹمز اور اٹلی کی فنمیکانیکا مشترکہ طور پر تیار کرتی ہیں۔