.

ڈنمارک:فائرنگ کے شُبے میں دو افراد گرفتار

دونوں افراد پر پولیس مقابلے میں مارے گئے حملہ آور کی مدد کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں پولیس نے اختتام ہفتہ پر دومقامات پر فائرنگ کرنے والے حملہ آور کی معاونت کے شُبے میں دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ان دونوں افراد پر کلچرل سنٹر اور یہود کی عبادت گاہ پر فائرنگ کرنے والے شخص کی مدد کا شُبہ ہے۔ان دونوں کو اتوار کو گرفتار کیا گیا تھا اور سوموار کی صبح انھیں عدالت میں پیش کیا جانا تھا''۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کوپن ہیگن پولیس کو اس بارے میں مزید اطلاع نہیں ہے۔

پولیس نے اتوار کو کوپن ہیگن کے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیاں کی تھیں اور شہر کے علاقے نوئربرو میں واقع ایک انٹرنیٹ کیفے میں چھاپہ مارا تھا۔اسی علاقے میں مشتبہ حملہ آور اتوار کو پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا تھا۔

ڈینش پولیس نے اس مشتبہ حملہ آور کی ویڈیو نگرانی کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ اسی نے ہفتے کے روز ایک ثقافتی مرکز میں منعقدہ ''اسلام اور آزادی اظہار رائے'' کے موضوع پر مباحثے کے دوران فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔اس کے بعد اتوار کی صبح اس نے یہود کی ایک عبادت گاہ کے باہر فائرنگ کرکے ایک اور شخص کو ہلاک کردیا تھا۔ڈینش میڈیا نے اس مقتول کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ اس عبادت گاہ کا محافظ تھا۔

اس حملہ آور کی کلچرل سنٹر پر فائرنگ سے مارے گَئے شخص کی شناخت پچپن سالہ فین نورگارد کے نام سے کی گئی ہے۔ وہ دستاویزی فلمیں بنانے کا کام کرتا تھا۔اس تقریب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکے بنانے والا سویڈش کارٹونسٹ لارس ولکس اور فرانسیسی سفیر بھی موجود تھے۔

امریکا نے کوپن ہیگن میں فائرنگ کے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جین سکئی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا نے ڈنمارک کو اس مہلک واقعے کی تحقیقات کے لیے مدد کی پیش کش کی ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکا کے عوام ڈینش عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ ان تمام لوگوں کے ساتھ ہیں جو آزادی اظہار کے حق کے حامی ہیں اوریہود مخالفت سمیت تعصب کی تمام شکلوں کے مخالف ہیں۔