.

ڈینش یہودیوں کا اسرائیل میں آبادکاری سے انکار

یہ پیشکش اسرائیلی وزیر اعظم نے گذشتہ روز کی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی جانب یورپ میں مقیم یہودیوں کی اسرائیل میں آبادکاری کی پیشکش کو ڈنمارک کے یہودیوں نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ نیتن یاہو نے گذشتہ روز کوپن ہیگن میں یہودی معبد کے باہر حملے میں ایک یہودی کی ہلاکت کے بعد یہ پیشکش کی تھی۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا: "اسرائیل آپ کا گھر ہے۔ ہم یورپ سے یہودیوں کی اجتماعی 'ہجرت' کا انتظام اور مطالبہ کررہے ہیں۔" اس سے پہلے نیتن یاہو نے پیرس میں ہونے والے حملوں میں چار یہودیوں کی ہلاکت کے بعد بھی ایسا ہی پیغام جاری کیا تھا۔

مگر ڈنمارک میں مقیم مختصر مگر انتہائی سرگرم یہودی کمیونٹی نے نیتن یاہو کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔

ڈنمارک میں یہودی سوسائٹی کے چئیرمین ڈین روزن برگ اسموسن کا کہنا تھا "ہم اس دعوت کو سراہتے ہیں مگر ہم ڈینش شہری ہیں اور یہ ہمارا ملک ہے۔"

یورپ میں موجود یہودی کیمونیٹز نے اپنے خلاف بڑھتی ہوئی دشمنی رپورٹ کی ہے اور پچھلے ماہ پیرس میں ایک کوشر سپرمارکیٹ پر ہونے والے حملے میں چار یہودیوں کی ہلاکت کے بعد اقوام متحدہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئی کہ یورپ میں یہود مخالف جذبات ابھر رہے ہیں۔

کوپن ہیگن میں ہونے والا حملے میں حملہ آور نے سب سے پہلے گستاخانہ خاکے بنانے والے کارٹونسٹ پر حملہ کیا اور اس کے بعد شہر کے سب سے بڑے یہودی معبد پر حملہ کیا۔ ان دونوں واقعات میں دو افراد کی موت ہوئی۔

ڈینش پولیس نے مسلح شخص کو ہلاک کر دیا تھا مگر ابھی تک اس شخص کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

ڈنمارک نے کئی صدیوں سے یہودیوں کو ملک میں خوش آمدید کہا ہے اور اس کی اکثر کمیونٹی جرمن نازیوں کے قبضے کے باوجود ہولوکاسٹ میں بچ گئی تھی کیوںکہ ڈینش شہریوں نے انہیں بحفاظت ہمسایہ ملک سویڈن میں پہنچانے میں مدد کی تھی۔

کوپن ہیگن کے چیف ربی یائر میلکوئر نے ڈنمارک کے یہودیوں کے ملک چھوڑ کر جانے کے خیال کو مسترد کردیا۔

میلکوائر کا کہنا تھا "دہشت گرد ہماری زندگیوں کو نہیں چلا سکتے ہیں۔ ہمیں اس مشکل صورتحال کے بعد بالکل عام انداز میں رہنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہئے ہے۔ کوپن ہیگن کی یہودی برادری بہت مضبوط ہے۔"