.

نائیجیریا: بوکو حرام کے 300 جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نائیجیریا کی فوج نے ریاست بورنو کے شمال مشرق میں واقع قصبے مونگنو پر دوبارہ قبضے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ فوج کے ساتھ لڑائی میں بوکو حرام کے تین سے زیادہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

نائیجیریا کی وزارت دفاع کے ترجمان کرس اولوکولیڈ نے ایک ای میل بیان میں کہا ہے کہ ''تین سو سے زیادہ دہشت گرد مارے گئے ہیں اور چند ایک کو گرفتار کر لیا گیا ہے''۔ نائیجیری فوج نے سوموار کو بھی ایک بیان میں مونگنو پردوبارہ کنٹرول کا دعویٰ کیا تھا۔اس قصبے پر بوکو حرام کے جنگجوؤں نے 25 جنوری سے قبضہ کررکھا تھا۔

فوری طور پر آزاد ذرائع سے سخت گیر جنگجو گروپ بوکو حرام کی ہلاکتوں اورمونگنو سے پسپائی کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔اس قصبے کے مکینوں نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے فوج کے قبضے کی تصدیق کی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ لڑائی میں بہت زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں اور انھوں نے ان ہلاکتوں کی حتمی تعداد نہیں بتائی ہے۔

وزارت دفاع کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ مونگنو اور اس کے نواح مِں واقع دس اور کمیونٹیوں کو آزاد کرانے کے لیے کارروائی کے دوران بوکو حرام کو بھاری جانی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔فوج نے بوکو حرام کے ہتھیاروں اور گولہ وبارود کے ایک ڈپو کو بھی تباہ کردیا ہے۔

ترجمان کے بہ قول اس ڈپو میں مختلف قسم کی پانچ بکتربند گاڑیاں، ایک طیارہ شکن توپ، گولوں کے پچاس کیس اور مختلف اقسام کی آٹھ مشین گنیں شامل تھیں۔ ان کے علاوہ پانچ راکٹ گرینیڈ ،گولہ بارود سے بھرے ہوئے انچاس بکسے اور تین سو موٹر سائیکلیں بھی تباہ کر دی گئی ہیں۔

مسٹر کرس کا کہنا تھا کہ اس قصبے میں بوکو حرام کے ساتھ لڑائی میں دو نائیجیری فوجی ہلاک اور دس زخمی ہوگئے ہیں۔ فوج نے علاقے کا محاصرہ کرکے ابھی سرچ آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔اس کے علاوہ نائیجیریا کے اندر اور باہر انسداد دہشت گردی کی نئی مہم کے تحت مختلف زمینی اور فضائی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔پڑوسی ملک چاڈ کی فوج بھی سرحدی علاقے میں بوکو حرام کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔

مونگنو ریاست بورنو کے دارالحکومت میدغری سے قریباً ایک سو پچیس کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔یہاں نائیجیری فوج کی ایک بڑی چھاؤنی ہے اور اس پر بوکوحرام کے جنگجوؤں کے قبضے کے بعد اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ وہ اب میدغری کی جانب بھی پیش قدمی کرسکتے ہیں۔ وہ اس شہر کو اپنی مجوزہ اسلامی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔