.

یمن کے حوثی باغیوں کی الزاھر تک پیش قدمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ یمن کی حوثی ملیشیا ہم خیال سرکاری فوج کے تعاون سے البیضاء شہر کی مغربی گورنری الزاھر تک رسائی میں کامیاب ہو گئی۔

مقامی ذرائع کے مطابق حوثیوں کے ساتھ مل کر کی جانے والی فوجی کارروائی کے بعد حوثی باغی کسی مزاحمت کے بغیر الزاھر تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے کیونکہ تین دن کی شدید لڑائی کے بعد مسلح قبائلی علاقہ چھوڑ کر جا چکے تھے۔ اس لڑائی میں دونوں فریقوں کا بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔

دوسری جانب یمن کی حوثی بغاوت مخالف سیاسی جماعتوں نے براہ راست اقدام شروع کیا ہے جس کے تحت ان کا یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ وہ باغیوں سے اس وقت تک کسی قسم کے مذاکرات نہیں کریں گی جب تک صدر اور وزیر اعظم کی نظر بندی ختم نہیں کی جاتی۔ ادھر حوثی باغیوں نے بھی یو این سیکیورٹی کونسل کی جانب سے شہری اور فوجی اہمیت کے ٹھکانوں کا کںڑول معزول حکومت کے سپرد کرنے کال کو مسترد کر دیا ہے۔

حوثیوں سے ہونے والے مذاکرات میں شامل ذرائع نے عدن میں عوامی سطح پر بغاوت کے خلاف سرگرمیاں شروع ہونے کے بعد 'الحدث' نیوز چینل کو بتایا کہ مذاکرات میں یمنی سیاسی جماعت الاصلاح،نوجوانوں، جنوبی یمن کی علاحدگی کی پرچارک تحریک اور التجمع الوحدوی کے نمائندوں نے حکومتی عہدیداروں کا محاصرہ جاری رکھنے پر بطور احتجاج چپ سادھے رکھی۔ اس احتجاج کے بعد دوسرے مرحلے میں مذاکرات کے بائیکاٹ کے آپشن پر بھی غور ہو سکتا ہے۔