.

شام جانے والی لڑکیوں کی گرفتاری میں مدد دیں: برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی انسداد دہشت گردی پولیس نے شامی شدت پسند گروپوں میں شمولیت کے لئے جانے والی تین لڑکیوں کی تلاش شروع کی ہے اور ساتھ ہی انہیں گرفتار کرنے میں معاونت کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

برطانوی انسداد دہشت گردی پولیس کے چیف رچرڈ والٹن کا کہنا ہے کہ انہیں روپوش یا بیرون ملک چلی جانے والی تینوں لڑکیوں کے انجام بارے میں گہری تشویش لاحق ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق پندرہ سالہ شمیما بیگم، 17 سالہ خدیجہ سلطانہ اور ایک اور پندرہ سالہ لڑکی گذشتہ منگل کو لندن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ایک پرواز سے ترکی کے شہر استنبول روانہ ہوئی تھیں۔

برطانوی پولیس کا کہنا ہے کی تینوں لڑکیاں سہلیاں ہیں اور مشرقی لندن کی ’’بینٹھن گرین‘‘ اکیڈیمی میں ایک ساتھ تعلیم حاصل کرتی رہی ہیں۔ انہی کی ایک سہیلی گذشتہ برس دسمبر میں لندن سے فرار کے بعد شام میں دولت اسلامی’’داعش‘‘ میں شامل ہو گئی تھی۔

پولیس چیف مسٹر والٹن نے’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ شام میں کئی ایسے گروپ سرگرم ہیں جو بیرون ملک سے لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ تینوں لڑکیوں کو اغواء کیا گیا ہے بلکہ غالب امکان یہی ہے کہ وہ شام میں شدت پسند گروپوں میں شمولیت کے لیے جا چکی ہیں۔

پولیس کا یہ بھی کہا ہے کہ تینوں لڑکیوں نے بیرون ملک سفر کی غرض سے فنڈز بھی حاصل کیے ہیں تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا انہیں کس ذریعے سے مدد فراہم کی گئی۔

خیال رہے کہ برطانیہ سمیت بیشتر یورپی ممالک سے خواتین اور مردوں کی بڑی تعداد شام کے محاذ جنگ میں سرگرم گروپوں میں شمولیت کے لئے شام جا چکی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مغربی ممالک کی 550 خواتین شام کی انتہا پسند تنظیموں میں شامل ہو چکی ہیں۔

پچھلے ماہ سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بیرون ملک سے خواتین اور مردوں کی شام آمد کی بڑی وجہ سوشل میڈیا پر شدت پسندوں کی پروپیگنڈہ مہمات ہیں جو مغرب میں مسلمان نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف مائل کر رہے ہیں۔