.

"اسامہ بن لادن القاعدہ کا نام بدلنا چاہتے تھے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ شدت پسند تنظیم 'القاعدہ' کے بانی سربراہ مقتول اسامہ بن لادن تنظیم کا نام تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ موت سے چندے قبل وہ اپنی تنظیم [القاعدہ] کے حوالے سے سخت مایوس تھے اور وہ اسے اسلام کی نمائندہ بنانے کے خواہاں تھے۔

وائٹ ہائوس کے ترجمان گوش ارنسٹ نے 'این ڈی ٹی وی' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں واقع اسامہ بن لادن کے قتل سے قبل مبینہ آخری ٹھکانے (کمپائونڈ) سے انہیں ایسی مصدقہ دستاویزات ملی ہیں جن سے پتا ہے کہ اسامہ تنظیم کے نام ' القاعدہ' سے مایوس تھے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ اسامہ اپنی تنظیم کے بارے میں پوری دنیا میں پائے جانے والے منفی تاثر اور مذہبی لیبل کو اتارنے کے خواہاں تھے۔

ایک سوال کے جواب میں ارنسٹ کا کہنا تھا کہ انتہا پسند گروپ ماضی میں بھی عالم اسلام میں اپنے افکار و نظریات کی تشہیر و تبلیغ کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ان میں سے بعض تو کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ ایسے گروپوں کی یہ کوشش رہی کہ وہ امریکا اور مغرب کو پورے عالم اسلام کا دشمن باور کراتے ہوئے اسلام کے مقابلے میں لا کھڑا کریں لیکن ان کی یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوئی ہیں۔ ہم (امریکا) ایسے گروپوں کے عزائم سے اچھی طرح واقف ہیں۔

خیال رہے کہ 02 مئی 2011ء کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے چند سو میل کے فاصلے پر واقع ایک حساس علاقے میں امریکی سیلز نے رات کی تاریکی میں ایک خفیہ آپریشن کے دوران قتل کر دیا تھا۔