.

ترکی کی شام کے شمالی علاقے میں فوجی کارروائی

شام کی جانب سے حلب کے نزدیک ترک دستے کی دراندازی کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے اطلاع دی ہے کہ ایک ترک فوجی قافلے نے سلطنت عثمانیہ کے جد امجد سلیمان شاہ کے مقبرے پر تعینات دستے کو نکالنے کے لیے کارروائی مکمل کر لی ہے اور وہ بہ حفاظت وطن لوٹ آیا ہے۔شام نے ترک فوج کی شمالی شہر حلب کے نزدیک اس دراندازی کی مذمت کی ہے۔

ترک فوجی ٹینکوں کے ساتھ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب سرحد عبور کرکے شام کے شمالی علاقے میں مقبرے کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو نکالنے کے لیے داخل ہوئے تھے جبکہ فضا میں ترکی کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے اور نگرانی کرنے والے طیارے بھی پروازیں کررہے تھے۔مقبرے کی جگہ کو ترکی کا خودمختار علاقہ خیال کیا جاتا ہے اور اس کا سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں نے محاصرہ کررکھا ہے۔

شامی حکومت نے اتوار کو سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کردہ ایک بیان میں ترکی کی ملک کے شمالی علاقے میں دراندازی کو ''ننگی جارحیت'' قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ انقرہ کو اس کے مضمرات کا ذمے دار قرار دے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ترک حکومت نے استنبول میں شامی قونصل خانے کو اس آپریشن کے بارے میں بتایا تھا لیکن اس نے شام کے اس سے متفق ہونے کا انتظار بھی نہیں کیا ہے۔

قبل ازیں ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے انقرہ میں نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ ''انتالیس ٹینکوں سمیت قریباً ایک سو فوجی گاڑیوں نے سلیمان شاہ کے مقبرے کی حفاظت پر مامور اڑتیس فوجیوں کو کامیابی سے وہاں سے نکال لیا ہے۔تاہم ایک فوجی حادثے میں مارا گیا ہے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ترکی نے اس مشن کے لیے کسی سے کوئی اجازت یا مدد طلب نہیں کی تھی بلکہ اس نے داعش مخالف اتحاد میں شامل ممالک کو اس کے آغاز کے وقت آگاہ کیا تھا۔

داؤد اوغلو نے ٹویٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا تھا کہ سلیمان شاہ کی باقیات کو شام میں کسی اور علاقے میں منتقل کردیا جائے گا۔واضح رہے کہ ترک حکومت نے گذشتہ سال داعش کے جنگجوؤں کی مقبرے کی جانب پیش قدمی کی اطلاع دی تھی اور اس نے اس سے پہلے 2012ء میں ایک انتباہ جاری کیا تھا کہ اگر سلیمان شاہ کے آٹھ ہزار مربع میٹر رقبے پر واقع مقبرے کی جانب کسی نے چڑھائی کی تو اس کو جارحیت تصور کیا جائے گا۔

سلیمان شاہ سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان بے کے دادا تھے۔پہلی جنگ عظیم کے خاتمے پر سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے ہوئے تو شام پر فرانس نے قبضہ کر لیا تھا لیکن اس قبضے کے بعد بھی ترکی نے مقبرے کی خود مختار حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے فرانس کے ساتھ ایک معاہدہ کرلیا تھا اور پھر شام کی آزادی کے بعد اس کے ساتھ بھی یہی معاہدہ کیا تھا۔اس کے تحت یہ علاقہ ترکی کی ملکیت شمار ہوتا ہے۔

یادرہے کہ شام میں برسرپیکار داعش اور القاعدہ سےو ابستہ النصرۃ محاذ ایسے انتہا پسند جنگجو گروپ اب تک متعدد مساجد ،مزارات اور مقابر کو مسمار کر چکے ہیں۔وہ قبور پر گنبد اور قبوں کی تعمیر کو اسلامی تعلیمات کے منافی خیال کرتے ہیں۔