.

"لیبی فوج دہشت گردی کےخلاف مقدس جنگ لڑ رہی ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف سرگرم میجر جنرل خلیفہ خفتر نے کہا ہے کہ مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف ’مقدس جنگ‘ لڑ رہی ہے۔ ملک میں دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الکرامہ آپریشن کے انچارج جنرل خلیفہ خفتر نے القبہ شہر میں کار بم حملوں اور دہشت گردی کے تازہ واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری فوج ہر اعتبار سے ایک مقدس جنگ لڑ رہی ہے۔ فوج اور عوام دونوں اس جنگ میں قربانیاں دے رہے ہیں۔ یہ ایک مقدس لڑائی ہے جسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

ادھر ایک ہفتے سے ’’داعش‘‘ کے زیر قبضہ سرت شہر میں پچھلے ایک ہفتے سے نظام زندگی مکمل طورپر مفلوج ہو کررہ گیا ہے۔ شدت پسند گروپ فجر لیبیا کو سرت سے نکال باہر کیے جانے کے بعد داعش اب مشرق کی سمت میں النوفلیہ کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے۔ داعش نے سرت کی سڑکوں پر طویل فوجی پریڈ کرکے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ وہ ایک طویل جنگ لڑںے کی تیاری کر رہی ہے۔

سرت میں داعش کے ایک مقامی رہ نما ابو محمد الفرجانی نے مصراتۃ کے مسلح باغیوں کو توبہ کی تقلین کے ساتھ خلیفہ ابو بکر البغدادی کی بیعت کرنے کا حکم دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو فوٹیج میں مسٹر فرجانی کو دھمکی دیتے دکھایا گیا ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ صحوہ فوجیں اور صلیبیوں کے حامیوں کو ذبح کرنا شرعی قصاص کا تقاضا ہے۔

درایں اثناء لیبیا میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کے مفاہمتی کمیشن کی جانب سے متحارب دھڑوں میں مراکش میں مذکرات کے نئے دور کا اعلان کیا ہے۔ لیبی پارلیمنٹ کے زیر اہتمام مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ ابوبکر بعیرہ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ نے مذاکرات کا بائیکاٹ کرنے والے ارکان پارلیمنٹ کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ قبل ازیں پارلیمنٹ کے ایک دھڑے نے ملک میں جاری بدامنی کے باعث مراکش میں جاری مفاہمتی مذاکرات میں حصہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔