.

لیبیا کے بڑے فیلڈ سے تیل کی پیدوار کا دوبارہ آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے جنوب مشرق میں الحریقہ کی بندرگاہ کے نزدیک واقع ملک کے سب سے بڑے السریر آئیل فیلڈ سے خام تیل نکالنے کا دوبارہ آغاز کردیا گیا ہے۔

لیبیا کی تیل کی سرکاری کمپنی اگوکو کے ترجمان عمران زوائی نے سوموار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ فی الحال تیل کی بہت تھوڑی مقدار نکالی جارہی ہے۔السریر آئیل فیلڈ سے لیبیا کی کل پیداوار کا دوتہائی تیل نکالا جاتا ہے۔ایک ہفتہ قبل اس فیلڈ میں ایک دھماکا ہوا تھا جس کے بعد پیداوار بند کردی گئی تھی۔

درایں اثناء خبررساں ایجنسی رائیٹرز نے اطلاع دی ہے کہ لیبیا نے مشرقی بندرگاہ زیتونہ سے قریباً ایک سال کے وقفے کے بعد دوبارہ تیل کی برآمد شروع کردی ہے۔زیتونہ کی بندرگاہ لیبیا کی بین الاقوامی طور پر تسلیم یافتہ حکومت کے تحت فوج کے کنٹرول میں ہے۔

اب اس بندرگاہ سے تیل کی برآمد سے حاصل ہونے والی رقوم ملک کے مرکزی بنک میں جمع ہوں گی جس سے معاشی بحران کا شکار وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت کو سنبھالا مل سکے گا۔

گذشتہ ہفتے السریر آئیل فیلڈ سے الحریقہ کی بندرگاہ کی جانب جانے والے تیل کی پائپ لائن کو دھماکے سے تباہ کردیا گیا تھا جس سے لیبیا کی تیل کی پیداوار دو لاکھ بیرل یومیہ سے بھی کم ہو کررہ گئی تھی۔

یادرہے کہ لیبیا سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے 2011ء میں خاتمے سے قبل تیرہ لاکھ بیرل خام تیل یومیہ برآمد کررہا تھا۔ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے مختلف جنگجو گروپوں کے درمیان اقتدار کے لیے رسہ کشی جاری ہے اور تیل کے بیشتر کنووں سے پیداوار بند ہوچکی ہے یا وہاں سے بہت تھوڑی مقدار میں تیل نکالا جارہا ہے۔