.

لیبیا:خلیفہ حفتر کو فوج کا سربراہ مقرر کرنے کی سفارش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی منتخب پارلیمان کے صدر عقیلہ صالح نے قذافی دور کے بھگوڑے جنرل خلیفہ حفتر کو آرمی کا کمانڈر انچیف مقرر کرنے کی سفارش کی ہے۔

لیبی پارلیمان کے ترجمان فراج ہاشم نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایوان نمائندگان (پارلیمان) نے خلیفہ حفتر کو فوج کا سربراہ بنانے کی حمایت کی ہے اور ان کے تقرر کے لیے حکم نامے پر اب صرف عقیلہ صالح کے دستخط درکار ہیں۔انھیں صدارتی اختیارات بھی حاصل ہیں۔

خلیفہ حفتر نے سابق مطلق العنان صدر کرنل معمر قذافی کو اقتدار پر قبضے میں مدد دی تھی۔ وہ ترقی کرتے فوج میں جنرل کے عہدے تک پہنچے تھے لیکن وہ ان سے اختلاف کے بعد ملازمت سے دستبردار ہوگئے تھے اور 1980ء کے عشرے میں ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

وہ قذافی دور میں قریباً دوعشرے تک امریکا میں جلا وطنی کی زندگی گزارتے رہے تھے اور 2011ء میں کرنل معمر قذافی کی حکومت کے خلاف مسلح عوامی بغاوت کے دنوں میں امریکا سے لیبیا لوٹے تھے۔ان پر پہلے قذافی حکومت نے امریکی سی آئی اے کا ایجنٹ ہونے کا الزام عاید کیا تھا اور اب ان کے متحارب جنگجو گروپ بھی انھیں امریکی ایجنٹ اور سی آئی اے کا آلہ کار قرار دے رہے ہیں۔

ان کے تحت مسلح فورسز کا لیبیا کےمشرقی شہروں میں کافی اثرورسوخ ہے۔لیبیا کی بین الاقوامی طور پر تسلیم یافتہ حکومت کے دفاتر بھی مشرقی شہر طبرق میں قائم ہیں اور پارلیمان بھی ادھر ہی اپنے اجلاس منعقد کررہی ہے جبکہ خلیفہ حفتر کے تحت فورسز کی دارالحکومت طرابلس پر قابض اسلامی جنگجو گروپوں پر مشتمل فجر لیبیا کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔

جنرل خلیفہ حفتر کے تحت سرکاری فوج اور ملیشیا نے بن غازی اور طرابلس میں فجر لیبیا کے ٹھکانوں پر فضائی حملے بھی کیے ہیں لیکن اس بمباری سے زیادہ تر عام لوگوں کا جانی نقصان ہوا اور انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔شہری علاقوں پر بمباری پر خلیفہ حفتر پر عوامی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے تنقید کی گئی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ خلیفہ حفتر نے اپنی حمایت وزیراعظم عبداللہ الثنی کی قیادت میں حکومت کے پلڑے میں ڈال دی ہے اور وہ خود کو مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کی طرح لیبیا کا مرد آہن اور السیسی کے طور پر پیش کررہے ہیں۔

طرابلس پر قابض حکومت اور لیبیا کے مغربی شہروں کے رہنے والے بھی جنرل خلیفہ حفتر پر قذافی دور کی طرح ملک کو ایک پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کرنے کے الزامات عاید کررہے ہیں۔گذشتہ چند ہفتوں کے دوران لیبیا کے مشرقی شہروں میں وزیراعظم عبداللہ الثنی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔مظاہرین نے عبداللہ الثنی سے مستعفی ہونے اور اقتدار خلیفہ حفتر کی قیادت میں فوجی کونسل کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ لیبیا میں اس وقت دو متوازی حکومتیں اور پارلیمان کام کررہی ہیں۔تاہم عبداللہ الثنی کی قیادت میں حکومت کو سفارتی سطح پر برتری حاصل ہے اور انھیں امریکا اور مغربی حکومتوں نے تسلیم کررکھا ہے۔ دارالحکومت طرابلس پر اس وقت عبداللہ الثنی کی حکومت کے مخالف مصراتہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے اپنی حکومت قائم کررکھی ہے۔