.

آبنائے ہرمز، خلیج و بحر عمان پر قبضہ کر سکتے ہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنرل کمانڈر ایرانی پاسداران انقلان محمد جعفری نے ایک بار پھر دھمکی دی ہے کہ ان کا ملک خلیج عرب، بحر عمان اور آبنائے ہرمز پر قبضہ کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو کمزور ملک نہ سمجھا جائے۔ تہران ایک مضبوط دفاعی طاقت ہے جو اپنے دشمن کو ہر محاذ پرشکست دینے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔

خیال رہے کہ ایران میں گذشتہ تین عشروں سے بر سر اقتدار شخصیات کی جانب سے اسی نوعیت کی مسلسل دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں۔ خطے میں جب بھی کوئی بحران سر اٹھاتا یا ایران کو بیرونی دبائو کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کی جانب سے دھمکیوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جنرل جعفری کی جانب سے حالیہ دھمکی بھی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران کو اپنے متنازع جوہری پروگرام کے باعث سخت عالمی دبائو کا سامنا ہے۔

تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل محمد علی جعفری نے کہا کہ ان کا ملک اس وقت ایک نمایاں دفاعی قوت بن چکا ہے۔ انہوں نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ ایران کی بحریہ خلیج عرب، آبنائے ھرمز اور بحر عمان پر کسی بھی وقت قبضہ کر سکتی ہے۔

جنرل جعفری کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا جب ایران نے خلیج عرب میں بحری اور فضائی مشقیں شروع کر رکھی ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی’’تسنیم‘‘ کے مطابق آج بروز جمعرات سے ایران کی بری فوج بھی ان مشقوں میں شامل ہو رہی ہے۔

جنگی مشقوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے جنرل جعفری نے کہا کہ مشقوں میں ایرانی فوج نے اپنے ابتدائی اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ ایران نے مشقوں کے دوران جو میزائل داغے تھے وہ اپنے ہدف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔

ایرانی جنرل کا کہنا تھا کہ ہم نے دنیا کو متعدد مرتبہ یہ پیغام بھیجا ہے کہ ہم اپنے دشمن ممالک کو خطے میں اپنے اثر ونفوذ کو بڑھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ضرورت پڑی تو ہم خلیج عرب پر قبضہ کر سکتے ہیں۔

تاہم جنرل جعفری نے جنگی مشقوں کے حوالے سے خلیجی ممالک کو مطمئن کرنے کی بھی کوشش کی اور کہا کہ اگرچہ جنگی مشقوں میں ایران نے اپنی دفاعی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے مگر ہم خطے کے تمام ممالک کو امن وآشتی کا پیغام بھی دینا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خلیج عرب اور آبنائے ہرمز میں امن وامان کا قیام ایران اور خلیج سب کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے خلیجی ممالک کے ساتھ اپنا بھائی چارہ ثابت کیا ہے۔ ہماری جنگ ان دشمنوں کے خلاف ہے جو باہر سے آ کر یہاں اپنا رسوخ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا اشارہ مبینہ طور پر امریکا کی جانب تھا کیونکہ جنگی مشقوں میں بھی ایرانی فوج نے امریکا کے فرضی جنگی بیڑے کو تباہ کرنے کے تجربات کیے ہیں۔