.

بین کی مون بھی شاہ سلمان کے فوری اقدمات کے معترف

’جو کام 100 دن میں ہونا تھے، شاہ سلمان نے 10 دن میں کر دکھائے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے نئے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے عوامی بہبود کی فوری اقدامات پر نہ صرف سعودی عوام خوش ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی شاہ سلمان کے اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

خادم الحرمین الشریفین کے عوامی بہبود کے اقدامات کا اعتراف کرنے والوں میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جوکام مہینوں میں ہونا تھے شاہ سلمان نے دنوں کے اندر کر دکھائے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یو این سیکرٹری جنرل نے یہ بات حال ہی میں سعودی وزیر پٹرولیم علی النعیمی سے ملاقات میں کہی۔ جازان میں منعقدہ اقتصادی فورم سے خطاب اور صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر تیل نے شاہ سلمان کےعوامی بہبود کے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ خادم الحرمین الشریفین کی عوامی بہبود کے لیے خدمات کو عالمی سطح پر بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے بھی شاہ سلمان کی تعریف کی۔ یو این سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ماضی میں جو کام 100 دنوں میں بھی نہیں ہوتے تھے شاہ سلمان نے 10 دن کے قلیل وقت میں کردکھائے ہیں۔

سعودی عرب کی تیل کی سب سے بڑی کمپنی ’’ارامکو‘‘ کے زیراہتمام ہونے والے اقتصادی فورم سے خطاب سے قبل صحافیوں نے وزیر پٹرولیم کو گھیرے میں لے لیا۔ وہ عالمی منڈی میں تیل کی گرتی قیمتوں کے بارے میں سعودی عرب کی نئی پالیسی اور درپیش بحران کے بارے میں جاننا چاہتے تھے۔ وزیر پٹرولیم نے انہیں اطمینان دلایا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے علی الرغم مملکت سے تیل کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ انہیں تیل کی قیمتوں کے حوالے سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی آئل مارکیٹ بھی مستحکم ہے اور اس حوالے سے عوام کو مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سعودی وزیر تیل کا کہنا تھا کہ ’’ارامکو‘‘ نے تیل کے شعبے میں 70 سے 75 ارب ریال کی سرمایہ کررکھی ہے۔ حکومت جلد ہی جازان میں ایک آئل ریفائنری لگانے کا منصوبہ بنا رہی ہے جس سے سالانہ 04 لاکھ بیرل تیل صاف کیے جانے کے بعد فروخت کیا جائے گا۔

سعودی وزیر کا کہنا تھا کہ پچھلے چند ہفتوں سے عالمی منڈی میں برینٹ آئل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل پر مستحکم رہی ہے۔ اوپیک میں تیل کی یہ قیمت خلیجی ممالک کے تیل پیدا کرنے والے دوسرے ممالک کویت اور قطر کے نزدیک بھی مناسب ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دنوں تیل کی عالمی منڈی میں قیمت گرنے کا سبب امریکا میں 425 ملین بیرل تیل کی ذخیرہ شدہ حالت میں موجودگی بھی تھی۔

انہوں نے مزید کہاکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ چین کے آئل سیکٹرنے محدود پیمانے پر تیل کی مزید طلب کی ہے۔