.

سوڈان نے ایرانی مراکز بند کر دیئے

'اقدام قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے باعث اٹھایا گیا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے صدر محمد عمرالبشیر کی حکومت نے اپنے ہاں موجود ایرانی مراکز کو ملک کی سلامتی کے تقاضوں کے پیش نظر بند کیا ہے کیونکہ ان مراکز سے ملک کی سلامتی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی تھیں۔

'العربیہ' ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر البشیر نے لیبیا میں انتہا پسند گروپوں کی حمایت کی تردید کی اور کہا کہ ان کی حکومت لیبیا میں عبداللہ الثنی کی حکومت کو آئینی اور قانونی سمجھتے ہوئے اسی کی حمایت کرتی ہے۔

قبل ازیں سوڈانی صدر نے اخوان المسلمون کی عالمی تنظیم کو عرب ممالک کے استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سوڈان کو اخوان المسلمون کے زیر اثر نہیں آنے دیں گے۔ تمام عرب ممالک میں اخوان المسلمون کی مدخلت امن واستحکام کے حوالے سے تشویشناک ہے اور ہر ملک کو اپنے استحکام کی خاطر اخوان جیسے گروپوں کی سرکوبی کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ’’داعش‘‘ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے عرب ممالک کی صفوں میں اتحاد کی ضرورت ہے کیونکہ یہ گروپ بھی عرب ملکوں کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں صدر عمر البشیر نے کہا کہ خرطوم اور متحدہ عرب امارات کے درمیان داعش کے خلاف کارروائی کے لیے ہم آہنگی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصر کے ساتھ سوڈان کے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات ہیں۔ مصر کے فوجی پس منظر رکھنے والے صدر عبدالفتاح السیسی کو وہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔