.

یو اے ای :برطانوی بزنس مین کا اغوا، 6 ایرانیوں کو عمرقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات ( یو اے ای) کی ایک عدالت نے ایک برطانوی کاروباری شخصیت کے اغوا کے مقدمے میں چھے ایرانیوں کو عمرقید کی سزا سنائی ہے۔ان میں سے تین کو ان کی عدم موجودگی میں یہ سزا سنائی گئی ہے۔

ایرانی نژاد برطانوی شہری عباس یزدی دبئی میں جون 2013ء میں اچانک لاپتا ہوگئے تھے۔وہ دبئی میں ایک جنرل ٹریڈنگ کمپنی چلاتے تھے۔تب ان کی اہلیہ ایتینا نے یو اے ای کے ایک اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ان کے خاوند کو ایرانی انٹیلی جنس کے اہلکاروں نے اغوا کر لیا ہے۔تاہم ایران نے عباس یزدی کے لاپتا ہونے میں کسی قسم کے کردار سے انکار کیا تھا۔

دبئی میں پراسیکیوٹرز کا کہنا تھا کہ ملزموں نے عباس یزدی پر حملہ کیا تھا اور انھیں نشہ آور دوا کھلا کر شارجہ لے گئے تھے جہاں سے انھیں بحری راستے سے ایران اسمگل کردیا گیا تھا۔

عدالت میں فیصلہ سنائے جانے کے وقت تین ملزمان موجود تھے۔گلف نیوز نے ان کی شناخت ''آر اے'' عمر بتیس سال ،''کے جی'' عمر باون سال اور ''این اے'' عمر پچپن سال کے نام سے کی ہے۔انھوں نے برطانوی شہری کے اغوا ،اس پر حملے اور چوری سے متعلق الزامات کی تردید کی تھی۔تاہم آر اے نے یہ اعتراف کیا تھا کہ اغوا کے وقت استعمال کی گئی کار کو وہی چلا رہا تھا۔

عدالت نے تین مجرموں کو ان کی عدم موجودگی میں سزا سنائی ہے۔اخبار نے ان کی شناخت ''ایچ بی'' ، ''بی این'' اور ''آئی این'' کے نام سے کی ہے اور لکھا ہے کہ اس مقدمے میں ایک اور شخص بھی ماخوذ تھا۔اس کی شناخت ''ایس ایچ'' کے نام سے کی گئی ہے۔اسی نے اغوا کے اس واقعے کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن وہ مقدمے کے فیصلے سے قبل ہی دوران حراست انتقال کر گیا تھا۔

یواے ای کے اخبار سات یوم نے یزدی کی بیوی کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس کے خاوند کی لاپتا ہونے کے وقت عمر چوالیس سال تھی اور وہ سابق ایرانی صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کے بیٹے کا بچپن کا دوست تھا۔

برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق عباس یزدی اپنے اغوا کے وقت ہیگ میں قائم ایک بین الاقوامی مصالحتی عدالت کو ویڈیو لنک کے ذریعے ثبوت فراہم کررہا تھا۔یہ عدالت متحدہ عرب امارات میں قائم کریسنٹ پیٹرولیم اور ایران کی نیشنل آئیل کمپنی کے درمیان ایک طویل عرصے سے جاری تنازعے کو طے کرانے کے لیے معاملے کی سماعت کررہی تھی۔ تاہم برطانوی میڈیا کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہو کہ ایرانی نژاد برطانوی شہری کے اغوا کا مصالحتی عدالت میں زیر سماعت مقدمے سے کوئی تعلق تھا۔