.

داعش کے خلاف جنگ ترکی کی ترجیح نہیں: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی انٹیلی جنس کے سربراہ جیمز کلیپر کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ (داعش) کے خلاف اقدامات ترکی کی ترجیح نہیں۔ اسی وجہ سے غیر ملکی جنگجو ترکی کے راستے بآسانی شام داخل ہو رہے ہیں۔

امریکی سینیٹ کی آرمڈ فورسز کمیٹی کے اجلاس میں جیمز کلیپر نے بتایا کہ ترکی کی انتہا پسند تنظیم کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کے بجائے دیگر ترجیحات اور مفادات ہیں۔ امریکی عہدیدار کے مطابق ترکی میں ہونے والے رائے عامہ کے جائزوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انقرہ داعش کو 'بڑا خطرہ' نہیں سمجھتا۔ ترک شہریوں کی توجہ کا موضوع معیشت اور کرد علاحدگی پسند ہیں۔

60 فی صد داعش ترکی کے راستے شام گئے

جیمز کلیپر نے مزید بتایا کہ اس ساری صورت حال کا نتیجہ ترکی سے سرحد عبور کر کے شام داخل ہونے والوں سے متعلق قانونی تساہل کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ساٹھ فی صد جنگجو ترکی کے راستے شام آتے ہیں۔

امریکی اہلکار نے بتایا کہ داعش کے مسلح جنگجوؤں کے ہاتھوں یرغمالیوں کے سرقلم کرنے اور اردنی ہواباز معاذالکساسبہ کو زندہ جلانے جیسے وحشت ناک اقدامات کی وجہ سے داعش کے خلاف مشرق وسطیٰ میں رائے عامہ میں یکسوئی پیدا ہوئی ہے۔

''میں سمجھتا ہوں کہ اب مشرق وسطیٰ میں داعش کے خلاف امریکی اقدامات کا ساتھ دینے کا زیادہ داعیہ موجود ہے، بالخصوص یہ تعاون معلومات کے تبادلے کے صورت میں زیادہ مفید ہے''۔