.

علماء سے تعاون کے طلبگار صدر روحانی کی ’ قُم‘ آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے اصلاح پسند صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے گذشتہ روز ملک کے مذہبی مرکز’’ قُم‘‘ کا دورہ کیا اور وہاں موجود مذہبی رہ نمائوں اور اہل تشیع کے سرکردہ علماء سے ملاقاتیں کیں۔

ذرائع کے مطابق صدر روحانی کی قُم آمد اور علماء سے ملاقاتوں کا مقصد موجودہ داخلی بحران اور متنازع جوہری پروگرام کے حوالے سے علماء سے تعاون حاصل کرنا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق قم کے حوزہ العلمیہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر حسن روحانی نے کہا کہ ’’قم شہر ہمارے لیے مذہبی اہمیت کا حامل شہرہی نہیں بلکہ یہ شہر مذہبی زندگی کی علامت ہے‘‘۔

خیال رہے کہ قم کے علمی مرکز میں اندورن اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے 80 ہزار طلباء زیر تعلیم ہیں۔ یہاں کے علماء بھی اصلاح پسند اور روایت پسند گروپوں میں منقسم ہیں۔ قدامت پسند علماء صدر روحانی کے زیادہ قریب نہیں جبکہ اصلاح پسندوں کو صدر روحانی کا حامی خیال کیا جاتا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر روحانی نے کہا کہ ’’میں یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ کہتا ہوں کہ حکومت کو ’’قم‘‘ کے تعاون کے تعاون کی اشدت ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قم کے حوزہ العلمیہ کو ہر قسم کے سیاسی اور گروہی اثرو نفوذ سے آزاد رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدمات کیے جائیں گے اور ادارے کی آزادی کو یقینی بنایا جائے گا۔

خیال رہے کہ صدر روحانی ایک ایسے وقت میں قم کے دورے پر پہنچے ہیں جہاں ان کی حکومت اس وقت عالمی برادری سے متنازعہ جوہری پروگرام پر بات چیت کر رہی ہے۔ ایران کے قدامت پسند علماء صدر روحانی پر جوہری پروگرام پر پسپائی کا الزام عاید کرتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی اندرون ملک ثقافتی پالیسیوں کو بھی سخت تنقید کا سامنا ہے۔

فارسی اخبار’’شرق‘‘ کی رپورٹ کے مطابق صدر حسن روحانی موجودہ حالات بالخصوص جوہری تنازع پر جاری مذاکرات کے حوالے سے علماء کو اعتماد میں لینا چاہتے ہیں اور ان سے تعاون کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔