.

لیبیا کو عالمی بحری فوج کی مدد درکار ہے:اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی کمیٹی نے اپنی ایک نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ لیبیا کے حکام تیل کی غیر قانونی تجارت اور ملک کے اندر اور اس سے باہر اسلحے کے غیر قانونی بہاؤ کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔اس کے لیے انھیں بین الاقوامی بحری فوج کی مدد درکار ہے۔

یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ماہرین کے پینل نے تیار کی ہے اور اس کے منظرعام پر آنے کے بعد عالمی طاقتوں پر لیبیا میں مداخلت کے لیے دباؤ بڑھے گا تاکہ شمالی افریقہ میں واقع اس ملک کو طوائف الملوکی کا مزید شکار ہونے سے بچایا جاسکے جہاں اس وقت دو متوازی حکومتیں کام کررہی ہیں اور ان کے تحت مسلح ملیشیاؤں کے درمیان ایک دوسرے کے علاقے پر قبضے کے لیے مسلح جھڑپیں جاری ہیں۔

اس پینل نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ''لیبیا بزور بازو اسلحے کی ملک کے اندر منتقلی کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے اور گہرے پانیوں یا فضائی حدود کے ذریعے اسلحے کی نقل وحمل پرعاید پابندی کے نفاذ کے لیے کوئی مجاز فورس بھی نہیں ہے''۔

عالمی ادارے کی پندرہ رکنی سلامتی کونسل نے سنہ 2011ء میں لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی کی حکومت کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کے لیے پابندی لگا دی تھی۔اس پابندی کے تحت لیبی حکومت صرف سلامتی کونسل کی کمیٹی کی منظوری کے بعد ہی اسلحہ اور ہتھیار درآمد کرسکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس پابندی کے بعد سے اب متحارب جنگجو گروپوں کے لیے بڑے پیمانے پرہتھیاروں کی اسمگلنگ ناگزیر ہوگئی ہے کیونکہ پابندی کے بزور نفاذ کے لیے کوئی بین الاقوامی فورس موجود نہیں ہے۔

پینل نے سلامتی کونسل پر زوردیا ہے کہ وہ لیبی حکومت کی مدد کے لیے ایک بین الاقوامی میری ٹائم فورس تشکیل دے تا کہ وہ لیبیا میں اسلحے کے غیر قانونی داخلے اور اس کے وہاں سے بیرون ملک اخراج اور خام تیل کی غیر قانونی برآمد کو روکنے کے لیے سمندری حدود کو محفوظ بنائے۔

قبل ازیں لیبیا اور مصر نے اسی ماہ کے اوائل میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا تھا کہ وہ لیبیا پر عاید اسلحے کی پابندی ختم کرے اور ان علاقوں کا بحری محاصرہ کرلے جو اس وقت عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔اس کے علاوہ وہ داعش اور دوسرے جنگجو گروپوں سے لڑنے کے لیے لیبی فوج کی تشکیل نو میں بھی مدد دے۔

اس رپورٹ میں لیبیا بھیجے گئے اسلحے کے باغی جنگجو گروپوں یا حکومت مخالف ملیشیاؤں کے ہاتھ لگنے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔پینل نے لکھا ہے کہ مارچ 2014ء میں یورپی یونین کے لیبیا میں تعینات سرحد مددگار مشن کے لیے تئیس آتشیں رائفلیں ، ستر دستی بندوقیں اور ہزاروں گولیاں بھیجی گئی تھیں لیکن تمام اسلحہ طرابلس کے ہوائی اڈے سے ہی غائب ہوگیا تھا۔ہوائی اڈے پر تب الزنتان سے تعلق رکھنے والی حکومت نواز ملیشیا کا قبضہ تھا۔

پینل نے لکھا ہے کہ لیبیا سے مصر اور ساحل کے علاقے میں اسلحے کا پھیلاؤ بدستور جاری ہے۔تاہم لیبیا سے شام کی جانب اسلحے کی ترسیل میں کمی واقع ہوئی ہے۔لیبیا مصر میں دہشت گردی اور مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے والے اسلحے کا بنیادی منبع ہے۔نیز مصر سے غزہ کی پٹی میں اسلحے کی منتقلی بھی جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق خام تیل اور تیل کی مصنوعات کی غیر قانونی برآمد سے لیبیا میں جاری تنازعے کے لیے رقوم مہیا ہو رہی ہیں۔