.

مقتول صحافی کا خاندان ''جہادی جان'' کی شناخت پرشاداں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں داعش کے ہاتھوں قتل ہونے والے اسرائیلی نژاد امریکی صحافی اسٹیون سوٹلوف کے خاندان کا کہنا ہے کہ انھیں اس کے نقاب پوش قاتل کی شناخت کے بعد اب اس کو سزا ملنے پر خوشی ہوگی۔

سوٹلوف اور دوسرے مغربی یرغمالیوں کے سرقلم کرکے عالمگیر شہرت پانے والے اس نقاب پوش قاتل کی شناخت محمد اموازی کے نام سے ہوئی ہے اور وہ جہادی جان کے نام سے بھی مشہور رہا ہے۔اس کا تعلق کویت سے ہے۔وہ لندن میں زیرتعلیم رہا اور ایک کمپیوٹر پروگرامر ہے۔

میامی میں مقیم سوٹلوف خاندان کے ترجمان براک برفی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''انھیں جہادی جان کی شناخت کے بارے میں مطلع کیا گیا ہے۔یہ اس کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی جانب پہلا قدم ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''اگر محمد اموازی ہی دراصل وہی شخص ہے جس نے اسٹیو کو قتل کیا تھا تو سوٹلوف خاندان کو مکمل یقین ہے کہ امریکا کی انٹیلی جنس کمیونٹی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کو پکڑنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔وہ اس دن کے منتظر ہیں جب جان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا اور اس کو اسٹیو کے قتل کا مجرم قرار دیا جائے گا''۔

جہادی جان کو اس کے برطانوی لب ولہجے کی وجہ سے بیٹل جان لینن کے نام پر یہ نام دیا گیا تھا۔اس کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ اسی نے سوٹلوف کے علاوہ ایک اور امریکی صحافی جیمز فولی ،برطانوی امدادی کارکنان ڈیوڈ ہینس اور ایلن ہیننگ اور امریکی امدادی کارکن عبدالرحمان قسیج کو بے دردی سے ذبح کیا تھا۔وہ جاپانی یرغمالیوں ہارونا یوکاوا اور کینجی گوٹو کے قتل سے قبل بھی ان کے ساتھ ویڈیو میں نمودار ہوا تھا۔

واضح رہے کہ امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے گذشتہ سال داعش کے اس نقاب پوش قصاب کی شناخت کا دعویٰ کیا تھا ۔ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے ایک نیوز کانفرنس میں اس کی شناخت کا دعویٰ کیا تھا لیکن ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس کا یا اس کے ملک کا نام ظاہر نہیں کریں گے۔

برطانیہ کے انٹیلی جنس ادارے ماضی میں لندن سے تعلق رکھنے والے سابق گلوکار عبدالماجد عبدالباری کے ممکنہ طور پر جہادی جان ہونے کی تحقیقات کرتے رہے ہیں۔ چوبیس سالہ عبدالباری لی جینی کے نام سے گاتا رہا تھا لیکن بعد میں گلوکاری سے دستبردار ہوکر انتہا پسند جنگجو بن گیا تھا اور شام چلا گیا تھا۔یو ایس اے ٹو ڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق اس مشتبہ نوجوان کی آوازوں کے موازنے سے شناخت ہوئی تھی اور اس کی ویڈیو والی آواز کا گانے کی آوازوں سے موازنہ کیا گیا تھا۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنے ملک کے انٹیلی جنس اداروں کو اس کوزندہ گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔اکتوبر2014ء کے اوائل میں بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں نے شام میں جہادی جان کی موجودگی کا سراغ لگا لیا تھا لیکن برطانوی سپیشل فورسز نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ اس کو قتل کرنے یا پکڑنے کا مشن ناکامی سے دوچار ہوسکتا ہے۔

داعش کے نقاب پوش جنگجو کی ویڈیو سے لی گئی تصویر،اس کو برطانوی میڈیا نے ''جہادی جان'' کا نام دیا تھا۔ساتھ اس کے بچپن کی تصویر ہے۔
داعش کے نقاب پوش جنگجو کی ویڈیو سے لی گئی تصویر،اس کو برطانوی میڈیا نے ''جہادی جان'' کا نام دیا تھا۔ساتھ اس کے بچپن کی تصویر ہے۔