.

ترکی لاپتا برطانوی طالبات کی تلاش میں معاونت کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی قومی ایئر لائن کا کہنا کہ وہ برطانیہ سے آنے والی ان تین طالبات کی تحقیقات اور انہیں تلاش کی کوشش کر رہے ہیں جو مبینہ طور پر شام میں دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کے جنگجوئوں میں شمولیت کے لیے استنبول پہنچنے کے بعد سے غائب ہیں۔

ترک فضائی کمپنی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ائر لائن تین لاپتا برطانوی لڑکیوں کی تلاش کے لیے حکومت کے متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔ ترک ایئر لائن کی جانب سے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا تاکہ لاپتا لڑکیوں کی تلاش کی راہ ہموار کی جا سکے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے برطانوی پولیس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ تین لڑکیاں 15سالہ امیرہ عباسی، شیما بیجوم اور 16 سالہ خدیجہ سلطانہ لندن سے ترکی کی ایک پرواز کے ذریعے 17 فروری کو استنبول روانہ ہوئی تھیں۔ جہاں سے وہ مبینہ طور پر سرحد پار کرکے دولت اسلامی میں شامل ہو گئی ہیں۔

برطانوی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے لڑکیوں کے استنبول سفر کے اگلے روز 18 فروری کو لندن میں ترک سفارت خانے سے رابطہ کیا۔ اس کے بعد سے ہم ترک حکومت کے ساتھ مل کر ان لڑکیوں کا سراغ لگانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں مگر ابھی تک اس میں کامیابی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

برطانیہ سے بڑی تعداد میں لڑکیوں اور مرد جنگجوئوں کے شام میں شدت پسند گروپوں میں شمولیت کے لیے روانگی کے بعد برطانوی حکومت سخت تشویش کا شکار ہے۔ حال ہی میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنے ایک بیان میں سوشل میڈیا اور فضائی کمپنیوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ شدت پسندانہ رحجانات رکھنے والے افراد پر نظر رکھنے میں حکومت کی مدد کریں تاکہ شدت پسندوں کو شام جانے سے روکا جا سکے۔